بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو کرپشن کیس میں 21 سال قید کی سزا

ڈھاکہ: بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو کرپشن کے الزام میں عدالت نے جمعرات کو 21 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ اس ہفتے سامنے آیا ہے جب انہیں انسانیت کے خلاف جرائم میں سزائے موت دی گئی تھی۔

خیبر پختونخوا: سال 2025 میں 955 دہشت گرد ہلاک، 33 کمانڈرز بھی نشانہ بنے

بنگلا دیشی انسداد بدعنوانی کمیشن نے شیخ حسینہ کے خلاف ڈھاکا کے نواحی علاقوں میں قیمتی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کے تین مقدمات دائر کیے تھے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شیخ حسینہ نے سرکاری زمین کو ذاتی ملکیت سمجھا، ریاستی وسائل پر نظر رکھی اور اپنے اور قریبی رشتہ داروں کے فائدے کے لیے سرکاری کارروائیوں میں ہیرا پھیری کی۔

عدالت نے شیخ حسینہ کے امریکہ میں مقیم بیٹے اور بیٹی کو بھی 5،5 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال طلبہ احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے دوران 1000 سے زائد افراد ہلاک ہونے کے بعد، شیخ حسینہ واجد 5 اگست 2024 کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بنگلا دیش سے بھارت فرار ہوگئی تھیں اور تب سے وہیں مقیم ہیں۔

شیخ حسینہ واجد کو گزشتہ ہفتے انسانیت کے خلاف جرائم میں سزائے موت بھی سنائی جا چکی ہے، جس کے بعد یہ کرپشن کی سزا مزید قانونی پیچیدگیوں میں اضافہ کرتی ہے۔

67 / 100 SEO Score

One thought on “بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو کرپشن کیس میں 21 سال قید کی سزا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!