پاکستان نے صبر کی حد پار کرلی افغانستان میں فضائی حملوں کے الزامات مسترد طالبان پر اقدامِ ریاست کی بجائے گروہی طرزِ عمل کا الزام

افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے پاکستان پر خوست، کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملوں کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے صبر کی حد کھو دی ہے، تاہم افغانستان میں کسی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
یورپ میں جی ایس پی پلس کے خلاف مہم غداری ہے عمران خان گروپ پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے خواجہ آصف

طالبان حکومت نے منگل کے روز پاکستان پر فضائی حملوں کا الزام لگایا تھا، لیکن وزیر دفاع خواجہ آصف نے ان الزامات کی سختی سے تردید کردی۔ مذکورہ حملے اسی دن رپورٹ ہوئے جب فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں تین اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے تو اس کا اعلان خود کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک ’’کوئی اچھے یا برے طالبان نہیں‘‘ اور تمام دہشت گرد ایک جیسے ہیں۔ انہوں نے طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک منظم ریاست کی طرح فیصلے کرے اور یہ واضح کرے کہ افغانستان کی حکمرانی کب تک عبوری حیثیت میں چلتی رہے گی۔

گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایک جنگ بندی قائم ہوئی تھی، لیکن تازہ الزامات نے ماحول کو دوبارہ کشیدہ کر دیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ موجودہ دہشت گردی کی لہر کی جڑیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے جڑی ہیں جہاں عسکریت پسند حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملوں میں نو افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔

’افغان طالبان سے امید ختم ہو چکی‘ — وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اب افغان طالبان سے کسی مثبت اقدام کی امید نہیں رکھتا۔ نجی چینل کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ طالبان ’’اپنے ہی لوگوں کے دشمن‘‘ اور اب ’’پاکستان کے کھلے دشمن‘‘ بن چکے ہیں۔

خواجہ آصف نے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر کارروائی تو کرتا ہے، لیکن عام شہریوں کو نشانہ بنانا کبھی اس کی پالیسی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج منظم اور اصولوں کی پابند ہے جبکہ طالبان کے پاس نہ ضابطہ ہے، نہ روایت۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ طالبان نے 20 سال کی جنگ کے بعد کابل پر قبضے کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جب انہوں نے طالبان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا تھا، تو وہ امید پر مبنی تھا، مگر اب ہر امید ختم ہو چکی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے خطے میں دوست ممالک — ترکیہ، ایران اور قطر — امن چاہتے ہیں اور افغانستان میں استحکام سب کے مفاد میں ہے۔ طالبان اگر بھارت سے تجارت کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ بالآخر ’’سامان وہیں سے پاکستان کی مارکیٹ میں پہنچ جاتا ہے‘‘۔

طالبان کی دھمکیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’’انہیں سنجیدگی سے لینا بے وقوفی ہوگی‘‘۔

فیض حمید کے کورٹ مارشل سے متعلق افواہیں غلط فہمیاں ہیں — آئی ایس پی آر

سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید سے متعلق کورٹ مارشل کے بارے میں گردش کرتی خبروں پر فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ معاملہ قانونی ہے اور قیاس آرائی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی معاملہ حتمی مرحلے پر پہنچا، اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “پاکستان نے صبر کی حد پار کرلی افغانستان میں فضائی حملوں کے الزامات مسترد طالبان پر اقدامِ ریاست کی بجائے گروہی طرزِ عمل کا الزام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!