وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یورپ میں پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس سہولت کے خلاف مہم چلانے والے ’’بھگوڑے‘‘ ملک دشمنی اور غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی لڑائیاں پاکستان کی سرزمین پر لڑنی چاہئیں، بیرون ممالک ریاست کے مفادات کے خلاف لابنگ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
القاعدہ برصغیر کے رہنماؤں پر امریکا کے بھاری انعامات اسامہ محمود پر ایک کروڑ اور عاطف یحییٰ غوری پر 50 لاکھ ڈالر مقرر
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف نے آمریت اور سیاسی انتقام کے کڑے ادوار دیکھے، دونوں کو قید کیا گیا، ان کے خاندان اور رفقا کو نشانہ بنایا گیا، مگر باوجود اس کے انہوں نے کبھی وطنِ عزیز کے مفادات پر حملہ کرنے کا نہیں سوچا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ہمیشہ اپنی سیاسی لڑائی پاکستان میں لڑی اور اس کی قیمت بھی ادا کی، مگر ملک اور قوم کو نقصان پہنچانے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ ’’عمران خان اینڈ کمپنی‘‘ نے اقتدار سے محرومی کے بعد پہلے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو خط لکھ کر پاکستان کو معاشی نقصان پہنچانے کی کوشش کی، اور اب یورپی یونین میں پاکستان کی برآمدات کو متاثر کرنے کے لیے لابنگ مہم چلا رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اگر اس طرح کی کوشش بھارت کی جانب سے ہوتی تو سمجھ آتی، مگر خود کو پاکستانی کہنے والوں کا یہ طرزِ عمل ’’ننگِ وطن‘‘ اور ’’غداری‘‘ کے مترادف ہے۔
