متحدہ پیپلز پارٹی کی بی ٹیم، 27ویں ترمیم ذاتی مفادات کی سودے بازی تھی: آفاق احمد

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان ہونے والی مخالفت دراصل مشترکہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد 27ویں آئینی ترمیم میں دونوں جماعتوں کی ذاتی مفادات پر مبنی ڈیل سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔

کرافٹرز ایکسپو 2025؛ 135 مقامی کاروباروں کی بھرپور شرکت، خواتین و ہنرمندوں کو نمایاں تعاون

ضلع وسطی کی زونل کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کی "بی ٹیم” کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 336 رکنی ایوان میں متحدہ کے 22 ووٹ فیصلہ کن تھے، جن کے بغیر دو تہائی اکثریت ممکن نہیں تھی۔ اس کے باوجود مہاجر قوم کے لیے کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنا وہ عمل ہے جس پر قوم ان سے سوال کرے گی۔

آفاق احمد نے کہا کہ متحدہ نے پہلے نثار کھوڑو اور بعد ازاں وقار مہدی کی حمایت کے لیے اپنے امیدوار دستبردار کرائے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی واقعی دشمن ہے تو متحدہ نے ہر اہم موقع پر اس کا ساتھ کیوں دیا؟

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ صدر کے استثناء کے حق میں ووٹ دے کر اس کی مخالفت کرنا محض ڈھونگ ہے۔

آفاق احمد نے کہا کہ وہ نئے صوبوں کے قیام کے مخالف نہیں، لیکن مہاجر قوم اور اس کی شناخت کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے شہری و دیہی سندھ کی جو تفریق پیدا کی تھی، اس کے اثرات آج تک موجود ہیں اور ہم صرف اسی ناانصافی کو درست کرنا چاہتے ہیں۔

چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ حقوق مانگنے والوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دینے کے بجائے انہیں اقتدار اور وسائل میں شراکت دی جائے، تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

61 / 100 SEO Score

One thought on “متحدہ پیپلز پارٹی کی بی ٹیم، 27ویں ترمیم ذاتی مفادات کی سودے بازی تھی: آفاق احمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!