دبئی ایئر شو میں بھارتی تیجس طیارہ تباہ، دفاعی ساکھ کو شدید دھچکا — ماہرین نے برآمدات کے امکانات مخدوش قرار دے دیے

دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی ہلکے جنگی طیارے تیجس کا حادثہ بھارت کے دفاعی وقار اور گھریلو ساختہ ٹیکنالوجی کے عالمی تشخص کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ عالمی دفاعی خریداروں کے سامنے پیش آنے والے اس واقعے نے نہ صرف بھارت کی دفاعی صنعت پر سوالات اٹھا دیے بلکہ بیرونِ ملک اس طیارے کی برآمدات کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا۔

سندھ رینجرز کی کارروائی: بھتہ خوری میں ملوث صمد کاٹھیاواڑی گروپ کا اہم کارندہ گرفتار

رائٹرز کے مطابق حادثے کی فوری وجوہات معلوم نہ ہوسکیں، تاہم واقعہ اُس ہفتے کے اختتام پر ہوا جس میں بھارت کا روایتی حریف پاکستان بھی بھرپور شرکت کر رہا تھا۔ صرف چھ ماہ قبل دونوں ممالک دہائیوں کی سب سے بڑی فضائی جھڑپ میں آمنے سامنے آئے تھے۔

حادثے نے بھارتی بیانیے کو کمزور کیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر شوز کے دوران ایسا حادثہ "ڈرامائی ناکامی” کا تاثر دیتا ہے اور کسی بھی ملک کے لیے دفاعی تشخص پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ امریکا کے میچل انسٹیٹیوٹ فار ایرو اسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس برکی کے مطابق، ایسے واقعات برآمدی مہمات پر ’’سایہ‘‘ ڈال دیتے ہیں، تاہم ان کے خیال میں تیجس مستقبل میں کچھ بحالی حاصل کر سکتا ہے۔

بھارت نے طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر نمانش سیال کی موت پر خراجِ تحسین پیش کیا، جو حادثے میں جاں بحق ہوئے۔

ماضی میں بھی روسی طیارے گر چکے — لیکن آرڈرز جاری رہے

دبئی ایئر شو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایئر شو ہے جہاں حادثات انتہائی کم ہوتے ہیں۔
1999 میں روسی Su-30 اور اس سے قبل MiG-29 بھی بڑے ایئر شوز میں کریش ہوئے، لیکن اس کے باوجود بھارت نے ان کے آرڈرز جاری رکھے تھے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دفاعی سودے اکثر سیاسی عوامل کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔

تیجس پروگرام کی مشکلات: انجن سپلائی اور سست پیداوار

تیجس کا پروگرام 1980 کی دہائی میں MiG-21 کی جگہ لینے کے لیے شروع کیا گیا تھا، تاہم اس کی پیداوار سست روی کا شکار رہی۔
• 180 Mk-1A طیاروں کے لیے آرڈرز موجود ہیں
• امریکی کمپنی GE کے انجنز کی سپلائی میں مسائل کے باعث ترسیل شروع نہیں ہو سکی
• ایچ اے ایل کے سابق ایگزیکٹو کے مطابق، دبئی کا حادثہ ’’برآمدی امکانات ختم‘‘ کر دیتا ہے۔

ایچ اے ایل نے گزشتہ برس ملائیشیا میں دفتر بھی کھولا تھا تاکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کی مارکیٹس میں تیجس کو پیش کیا جا سکے، مگر اب توجہ دوبارہ صرف ملکی ضروریات پر منتقل ہونے کا امکان ہے۔

بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کم، فوری خریداری کا امکان

بھارتی فضائیہ کے پاس منظور شدہ 42 کے مقابلے میں صرف 29 اسکواڈرنز رہ گئے ہیں۔
MiG-29، جگوار اور میراج 2000 آئندہ برسوں میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ اسی لیے:
• بھارت مزید رافیل طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے
• 40 مزید تیجس طیاروں کا اضافہ بھی سوچا جا رہا ہے
• بھارت F-35 اور Su-57 جیسے پانچویں نسل کے طیاروں کا جائزہ بھی لے رہا ہے

تیجس — برآمد نہیں، مستقبل کی ٹیکنالوجی کی بنیاد

ماہرین کے مطابق تیجس کی اصل اہمیت اس کے برآمدی امکانات میں نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کے اسٹیلتھ فائٹر پروگرامز کے لیے ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھنے میں ہے۔
ماضی میں اس منصوبے کو پابندیوں اور انجن کی ناکامیوں نے بری طرح متاثر کیا تھا۔

پاکستان کا مضبوط شو — JF-17 بلاک 3 کا معاہدہ

دبئی ایئر شو میں پاکستان بھرپور انداز میں شریک رہا:
• پاکستان نے ’’دوست ملک‘‘ کے ساتھ JF-17 بلاک تھری کی فراہمی کا معاہدہ کیا
• JF-17 کے ساتھ PL-15E میزائل بھی نمائش میں موجود تھا
• یہ وہی میزائل ہے جس کے بارے میں امریکی اور بھارتی اہلکار دعویٰ کرتے ہیں کہ اس نے رواں برس ایک بھارتی رافیل کو نشانہ بنایا تھا
• پی اے سی نے جے ایف 17 کو ’’Combat Proven‘‘ قرار دیا

اس کے برعکس بھارتی تیجس کو نہ تو حالیہ جھڑپوں میں استعمال کیا گیا اور نہ ہی وہ بھارتی ریپبلک ڈے کے فضائی شو میں شامل تھا، جس سے اس کی عملی افادیت پر مزید سوال اٹھتے ہیں۔

65 / 100 SEO Score

One thought on “دبئی ایئر شو میں بھارتی تیجس طیارہ تباہ، دفاعی ساکھ کو شدید دھچکا — ماہرین نے برآمدات کے امکانات مخدوش قرار دے دیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!