کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات ایک بار پھر تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ تین روز کے دوران تاجروں اور شہریوں سے بھتہ طلب کرنے کا تیسرا واقعہ بھی سامنے آگیا، جس نے کاروباری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ آرام باغ پولیس نے ریسٹورنٹ کے کاروبار سے وابستہ شہری کی مدعیت میں نامعلوم بھتہ خوروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جنہوں نے رقم کی منتقلی کے لیے نجی بینک کا اکاؤنٹ نمبر بھی فراہم کیا تھا۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کی ملک گیر کارروائی — 7 آپریشنز میں 4 گرفتار، کروڑوں مالیت کی منشیات برآمد
سی پی ایل سی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برس میں مجموعی طور پر 139 بھتہ خوری کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ سال 2023 میں 50 جبکہ 2024 میں 89 کیس سامنے آئے۔ رواں سال 30 اکتوبر 2025 تک بھتہ طلبی کے 74 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں اکتوبر 18 واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا۔ نومبر میں اب تک مزید 3 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
حال ہی میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں بھتہ خوروں نے نیو ایم اے جناح روڈ پر ایک تاجر کے شوروم پر فائرنگ کر کے خوف کی فضا قائم کی جبکہ ایک ماربل تاجر کو گولیاں بھیج کر دھمکایا گیا۔ تازہ ترین واقعہ آرام باغ کے محمد بن قاسم روڈ پر پیش آیا جہاں ’’اسپائسی خان‘‘ ریسٹورنٹ کے شریک مالکان کو پہلے 20 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا، پھر مسلسل واٹس ایپ رابطوں کے بعد یہ رقم کم کرکے 3 لاکھ روپے تک لے آئے اور وصولی کے لیے بینک اکاؤنٹ بھی بھیج دیا۔
مدعی عبدالرحمن کے مطابق 19 نومبر کی شام ریسٹورنٹ کے آفیشل نمبر پر غیر ملکی نمبر سے واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا جس میں کاروباری شراکت داروں اور اہل خانہ کی نگرانی کا دعویٰ کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔ واقعے کا مقدمہ نمبر 404/2025 بجرم دفعات 385، 386 اور 25-D ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت درج کرکے مزید تفتیش ایس آئی یو کے حوالے کردی گئی ہے۔
تاجروں نے بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کئی متاثرین پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے بھتہ خوروں سے ڈر کے مارے ازخود معاملات طے کرنا مجبوری سمجھتے ہیں، جس سے شہر میں جرائم پیشہ عناصر مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
