پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے ملک میں فٹبال لیگ کے نئے ماڈل کی تیاری کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ممکنہ شراکت داروں سے اگلے ماہ کے آغاز تک اپنی دلچسپی اور تفصیلی تجاویز جمع کرانے کی درخواست کر دی ہے۔ فیڈریشن کے اس اعلان کے بعد ملکی اسپورٹس حلقوں میں اس بات پر بحث تیز ہوگئی ہے کہ آیا یہ لیگ پرانے پاکستان پریمیئر فٹبال لیگ کے طرز پر محکمہ جاتی اور کلب سسٹم کے تحت ہوگی یا پھر کرکٹ کی پاکستان سپر لیگ کی طرح فرنچائز ماڈل اپنایا جائے گا۔
نجی اسکولوں کی مہنگی اسٹیشنری اور یونیفارم فروخت مسابقتی کمیشن کا نوٹس 14 روز میں جواب طلب
اطلاعات کے مطابق کئی نجی گروپس اور اسپورٹس انویسٹرز طویل عرصے سے فرنچائز فٹبال لیگ کے آغاز کے منتظر تھے اور پی ایف ایف کی منظوری ملتے ہی فوری طور پر اس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم محکمہ جاتی ٹیموں اور روایتی کلبز کے لیے نئے ڈھانچے کے تحت مؤثر تجاویز دینا نسبتاً مشکل ثابت ہوگا، خصوصاً ان ٹیموں کے لیے جو گزشتہ برسوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں کمی کا شکار رہیں۔
پی ایف ایف کی جانب سے اس جلد بازی کی ایک بڑی وجہ گزشتہ ہفتے ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کا دورہ پاکستان تھا۔ شیخ سلمان نے اپنے دورے کے دوران لیگ کے انعقاد کے لیے اے ایف سی کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں مکمل طور پر پروفیشنل لیگ ضروری نہیں، لیکن بتدریج پیشہ ورانہ ماڈل کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب اس بحث نے بھارت کی انڈین سپر لیگ (آئی ایس ایل) کی ناکامی کو بھی سامنے لا کھڑا کیا ہے، جہاں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بھرمار، مقامی ٹیلنٹ کی محدود شمولیت اور مختصر سیزن کے باعث لیگ کو مشکلات کا سامنا رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اسی ماڈل کو دہرانے سے گریز کرتے ہوئے پائیدار ڈومیسٹک اسٹرکچر کی بنیاد رکھنی چاہیے۔
فٹبال ماہرین کے مطابق ازبکستان اور اردن کی مثالیں سامنے ہیں جہاں مضبوط لوکل لیگ اور نوجوان کھلاڑیوں کی مستقل تیاری نے قومی ٹیموں کو عالمی مقابلوں تک پہنچایا۔ پاکستان میں بھی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ فرنچائز لیگ کے ساتھ ساتھ نیشنل چیلنج کپ جیسے روایتی ٹورنامنٹ کو بھی جاری رکھا جائے تاکہ نیچے سے اوپر تک مضبوط نظام قائم ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور ممکنہ سرمایہ کار فرنچائز لیگ کے آغاز میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اور امکان ہے کہ پی ایف ایف جلد کسی شراکت دار کا انتخاب کرلے۔ البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا تاکہ لیگ تجارتی دباؤ کے بجائے پاکستانی فٹبال کی ترقی کو اصل ترجیح بنائے۔
