مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے نجی اسکول سسٹمز کی جانب سے طلبہ اور والدین پر مہنگی اسٹیشنری اور لوگو والی یونیفارم کی جبری خریداری کے الزامات پر سو موٹو کارروائی کرتے ہوئے 14 روز میں تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔
این اے-96 ضمنی الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر طلال چوہدری سمیت وزرا کو الیکشن کمیشن کے نوٹس جاری
اعلامیے کے مطابق متعدد نجی اسکولوں پر الزام ہے کہ وہ طلبہ کو مخصوص وینڈرز سے مہنگی کاپیاں، نوٹ بکس اور یونیفارمز خریدنے پر مجبور کرتے ہیں، جس کے باعث والدین سستے متبادل بازار سے خریداری نہیں کر پاتے۔ کمیشن نے کہا کہ داخلے کے بعد طلبہ "یرغمال” کی صورتحال میں آ جاتے ہیں، کیونکہ اسکول تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے اور والدین اسکولوں کے تجارتی فیصلے ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سی سی پی کے مطابق ملک کے 50 فیصد سے زائد طلبہ نجی اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں، جب کہ بڑے اسکول سسٹمز ہزاروں کیمپس چلاتے ہیں، جن سے لاکھوں طلبہ اور والدین متاثر ہوتے ہیں۔ اس پالیسی نے اسٹیشنری اور یونیفارمز فروخت کرنے والے ہزاروں چھوٹے کاروبار کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ متعدد اسکول سسٹمز نے مخصوص وینڈرز کے ساتھ خفیہ معاہدے کیے ہوئے ہیں۔ لوگو والی کاپیاں مارکیٹ کے مقابلے میں 280 فیصد تک مہنگی فروخت کی جاتی رہی ہیں، جب کہ گائیڈ لائنز کے نام پر مہنگی مصنوعات کی لازمی خریداری والدین پر مسلط کی جاتی ہے، جو مسابقتی ایکٹ کی واضح خلاف ورزی ہے۔
شوکاز نوٹس ملنے والے اسکولوں میں بیکن ہاؤس، ویسٹ منسٹر، دی سٹی اسکول، ہیڈ اسٹارٹ، ایل جی ایس، فروبلز، روٹس انٹرنیشنل، روٹس ملینیئم، کَپس، الائیڈ اسکولز، سپرنوا، دارالارقم، اسٹپ، یونائیٹڈ چارٹر اور اسمارٹ اسکول سمیت ملک کے بڑے تعلیمی نیٹ ورکس شامل ہیں۔
سی سی پی کے مطابق الزام ثابت ہونے کی صورت میں کمیشن کو ساڑھے 7 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
