کراچی (نمائندہ خصوصی) – کراچی کے میئر اور چیئرمین واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ موجودہ شہری انتظامیہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کے تحت شہر کی بہتری کے لیے تین بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے لیے واضح وژن دیا ہے کہ ترقیاتی اقدامات یکسوئی اور شفافیت کے ساتھ کیے جائیں، شہریوں کو ساتھ لے کر چلنا اور نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دینا اولین ترجیح ہے۔
2025 تک کراچی دنیا کے 10 بڑے شہروں میں شامل ہونے والا ہے، 2050 تک پانچویں نمبر تک پہنچ سکتا ہے
میئر کراچی نے بتایا کہ سیوریج نظام کی بہتری کے لیے KWSSIP کے تحت 630 ملین روپے کی لاگت سے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ پی ڈی عثمان معظم نے کارپوریشن کو 20 مزید سکشن اور جیٹنگ گاڑیاں فراہم کی ہیں، جو نیلی گاڑیوں کے نام سے مشہور ہیں۔ اس اضافہ کے بعد اب شہر میں 142 گاڑیاں فعال ہوں گی، جس سے لائنز کی مکینیکل صفائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور شہریوں کو فوری خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ KWSSIP کی معاونت سے کارساز، سخی حسن اور سائٹ انڈسٹریل ایریا/ہارون آباد میں جدید سروس سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں ہارون آباد کسٹمر سینٹر کا تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے۔ میئر کراچی نے مزید کہا کہ شہر بھر میں سکشن اور جیٹنگ گاڑیوں کے پارکنگ کے لیے نئے زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ سروس کی رفتار اور رسائی بہتر ہو سکے۔
پانی کی چوری اور قانون سازی:
میئر نے بتایا کہ پانی کی چوری کے خلاف کارروائی کی سب سے بڑی رکاوٹ واٹر کارپوریشن کے پاس اپنا پولیس اسٹیشن اور ٹریبونل نہ ہونا تھا۔ اب واٹر کارپوریشن اپنے پولیس اسٹیشن اور اینٹی تھیفٹ سیل کے ذریعے بلا تاخیر کارروائی کرے گی۔ مزید برآں، پانی چوری کے مقدمات کے لیے ایک خصوصی ٹریبونل بھی قائم کیا گیا ہے جو جلد مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔
الیکٹرک گاڑیاں اور ماحولیاتی اقدامات:
انہوں نے بتایا کہ شہر میں ماحولیاتی بہتری کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے اور واٹر کارپوریشن میں بھی چارجنگ اسٹیشن قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ ملازمین کی گاڑیاں ادارے میں ہی چارج ہو سکیں۔
کے فور منصوبہ اور پانی کی فراہمی:
میئر نے کہا کہ کے فور منصوبے کے پہلے فیز پر کام جاری ہے، جس میں سرسید یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک 2.7 کلومیٹر پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے۔ 96 انچ قطر کے نئے پائپ ڈالنے سے یونیورسٹی روڈ پر لیکیج کے باعث نقصانات ختم ہوں گے اور شہر میں چالیس سے پچاس لاکھ گیلن اضافی پانی کی سپلائی ممکن ہوگی، جس سے لیاری، جمشید روڈ، اولڈ سٹی ایریا، دھوراجی اور گلشن اقبال کے شہری مستفید ہوں گے۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی:
میئر نے کہا کہ شہری مسائل کے حل کے لیے صرف پانی کے نظام کی بہتری کافی نہیں، بلکہ تجاوزات کے خلاف شفاف اور منظم کارروائی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی انکروچمنٹ عملہ کسی غلط اقدام کا مرتکب ہوگا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
شفافیت اور مالی معاملات:
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے سے ٹیکس کے حوالے سے تکنیکی غلطی کو درست کر دیا گیا ہے اور کے ایم سی کے اکاؤنٹس میں اکتوبر کے مہینے میں 37.5 کروڑ روپے منتقل ہو چکے ہیں، جن میں سے 9 کروڑ روپے بجلی کے بل کی ادائیگی پر خرچ کیے گئے، جس سے ادارے کی مالی حالت میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کراچی کے عوام کا ہر پیسہ مکمل دیانت اور شفافیت کے ساتھ شہر کی بہتری کے منصوبوں پر استعمال ہوگا۔

