یونیورسل چلڈرنز ڈے: پاکستان میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکول سے باہر، ماہرین کی ہنگامی اصلاحات کی اپیل

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بچوں کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم اسپارک (SPARC) نے یونیورسل چلڈرنز ڈے کے موقع پر “میرا دن، میرے حقوق” کے عنوان سے کراچی میں اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا، جس میں بچوں کے حقوق کے ماہرین، سرکاری اداروں کے نمائندوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور مختلف اسکولوں کے طلبہ نے شرکت کی۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب: شہر کے واٹر اور سیوریج نظام کی بہتری کے لیے جدید منصوبے تیزی سے جاری

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسپارک کے پروگرام مینیجر محمد کاشف مرزا نے انکشاف کیا کہ ملک میں 2 کروڑ 62 لاکھ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ان کے مطابق غربت، سماجی روایات، صنفی امتیاز اور ناقص تدریسی معیار بچوں کی تعلیم کے بڑے رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے کوئی مربوط، جدید اور عالمی معیار کے مطابق کیس مینجمنٹ سسٹم موجود نہیں، جس کے باعث بچے مسلسل خطرات سے دوچار ہیں۔

چائلڈ رائٹس اینڈ پروٹیکشن ایکسپرٹ محمد علی بلگرامی نے کہا کہ چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادی، اسکول سے دوری اور آن لائن خطرات جیسے مسائل اس وقت تک حل نہیں ہوں گے جب تک قوانین پر سخت اور مسلسل عملدرآمد نہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی آواز کو پالیسی سازی کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔

محکمہ انسانی حقوق کے نمائندے مسٹر آبڑو نے اجلاس میں بتایا کہ وفاقی حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، تاہم میدانِ عمل میں چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

اجلاس میں ماچر کالونی کے گورنمنٹ اسکول کے بچوں نے اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں کھیل کے میدان، غیر نصابی سرگرمیاں، صحت کے بنیادی وسائل اور محفوظ تعلیمی ماحول کی شدید کمی ہے۔

ماحولیاتی کارکن رشنا زبیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے، جبکہ ڈیجیٹل میڈیا فورم سندھ کے نمائندے نوازش کے مطابق سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے بچوں کو گمراہ کن معلومات اور آن لائن استحصال کے سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

سینئر صحافی قاضی یاسر نے کہا کہ نیوز سائیکل کی تیزی کے باعث میڈیا میں بچوں سے متعلق اہم مسائل کو اجاگر کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے نتائج بچوں کے حقوق کے لیے نقصان دہ ہیں۔

اسپارک کی مینیجر شمعیلا مزمل نے کہا کہ ہر سال UNCRC ڈے منایا جاتا ہے، مگر کیے گئے وعدے زمینی حقائق میں تبدیل نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل اور حل دونوں واضح ہیں، ضرورت صرف عملی قدم اور مشترکہ حکمت عملی کی ہے۔

ماہر تعلیم پروفیسر معراج صدیقی نے کہا کہ سرکاری و نجی اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت کا فقدان بچوں کے حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ متعدد اساتذہ بچوں سے متعلق بنیادی قوانین اور رہنما اصولوں سے بھی واقف نہیں۔

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے بچوں کے حقوق کے تحفظ، بچہ دوست پالیسیوں کے فروغ، ذمہ دارانہ میڈیا رپورٹنگ اور بچوں کے لیے جامع پروگراموں میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

One thought on “یونیورسل چلڈرنز ڈے: پاکستان میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکول سے باہر، ماہرین کی ہنگامی اصلاحات کی اپیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!