واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) — امریکی کانگریس کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال مئی میں ہونے والی پاک–بھارت چار روزہ جھڑپ کے دوران پاکستان نے فوجی برتری حاصل کی، جس میں چین کی جانب سے فراہم کردہ جدید دفاعی نظام نے اہم کردار ادا کیا۔
تیموریہ میں شاہین فورس کا مقابلہ: ایک ملزم زخمی، دوسرا گرفتار
رپورٹ کے مطابق چین نے 2024 اور 2025 کے دوران پاکستان کے ساتھ عسکری تعاون میں نمایاں اضافہ کیا، جس میں مشترکہ فوجی مشقیں، انسدادِ دہشت گردی ڈرلز اور پاکستان کی کثیرالملکی امن مشقوں میں شمولیت شامل رہی۔
کانگریس رپورٹ میں کہا گیا کہ جھڑپ کے دوران پاکستان کی کارکردگی خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوئی جب اس نے چین کے فراہم کردہ اسلحے کے ذریعے بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا، جسے چین کے ہتھیاروں کی عالمی فروخت کے لیے ایک مضبوط دلیل قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ چین کے جدید ہتھیار—
HQ-9 میزائل ڈیفنس سسٹم، PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائلز اور J-10 لڑاکا طیارے—
براہِ راست جنگی ماحول میں استعمال ہوئے، جو چین کے دفاعی نظام کے لیے عملی آزمائش ثابت ہوا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ چین نے جون 2025 میں پاکستان کو J-35 جدید لڑاکا طیارے، KJ-500 ایئرکرافٹ اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹمز کی فروخت کی منظوری دی، جس سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اسی ماہ پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا، جس کے بعد مجموعی بجٹ میں کمی کے باوجود دفاعی اخراجات بڑھ کر 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
