اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے چین کے گیزوبا گروپ کے چئیرمین لیو ہوالیانگ اور ان کے وفد سے ملاقات کی، جس میں پاک-چین تعلقات اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے چند دوست ممالک میں چین سب سے زیادہ قریبی اور عزیز ہے، اور پاک چین کاروبار درحقیقت دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں وہ چار مرتبہ چین گئے اور دونوں ممالک مزید نزدیک آ رہے ہیں۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ آج ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی پاک چین دوستی کا سبق پڑھایا جا رہا ہے اور چین کو M-6 اور M-10 موٹروے سیکشنز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مانسہرہ، ناران، کاغان، بابوسر اور چین کی سرحد تک کی شاہراہ پر بھی سرمایہ کاری کی پیشکش کی، جو قراقرم ہائی وے کا متبادل اور تجارتی و سیاحتی اعتبار سے اہم ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ کراچی سے سکھر تک کی موٹروے بندرگاہ سے منسلک ہو گی، اور پاکستان کے انفراسٹرکچر کی ترقی میں خاطر خواہ پوٹینشل موجود ہے۔ انہوں نے چین کے لیے M-6 اور M-10 کے باقی ماندہ حصوں میں حصہ لینے کی پیشکش کی اور کہا کہ موٹرویز میں سرمایہ کاری چین کے لیے منافع بخش ثابت ہوگی۔
چینی وفد نے ملاقات میں کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں چین کی واضح وابستگی ہے اور پاکستان میں مواصلات اور دیگر شعبوں میں ترقی کے لیے تعاون بڑھائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چین پاکستان کو علیحدہ ملک نہیں بلکہ اپنا حصہ تصور کرے اور آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونے کے باعث ضروریات زندگی کی ڈیمانڈ بھی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے این ایچ اے کے گزشتہ ایک سال کے ریونیو میں 66 ارب سے 109 ارب روپے تک اضافے کا بھی ذکر کیا۔
