اسلام آباد: سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کر دیا گیا، جس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شدید احتجاج کیا اور شور شرابہ کیا۔ اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا۔
وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اس مسودے کی منظوری دے دی ہے اور اب مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ اس اہم ترمیم پر مزید مشاورت ہو سکے۔
مسودے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی۔ سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات منتقل کر کے اسے صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت بنایا جائے گا، اور آرٹیکل 184 کو ختم کر کے ازخود نوٹس کا اختیار بھی ختم کیا جائے گا۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت محدود کر کے آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی تجویز کی گئی ہے تاکہ عدلیہ میں توازن پیدا ہو۔
فوجی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیوں کی تجویز ہے، جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کا عہدہ دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات درجہ دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے، جس میں جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوں گے، جبکہ وزیراعظم اور صدر کا کردار بھی کلیدی ہوگا اور پارلیمنٹ آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرے گی۔
مسودے میں آئین کے آرٹیکل 42، 63A اور 175 تا 191 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس سے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود ہوں گے اور عدلیہ اور انتظامیہ میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم، اپوزیشن نے ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے عدلیہ کی آزادی اور پارلیمانی اختیارات کی کمی کے طور پر دیکھا ہے، جبکہ حکومت اس کی حمایت میں موقف اختیار کر رہی ہے۔
