کراچی (اسٹاف رپورٹر) آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ہدایت کی ہے کہ شعبہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) قتل، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث مفرور و مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے ڈیجیٹل اور مقامی انٹیلیجنس معلومات ضلعی پولیس کو فراہم کرے۔
قلات میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، بھارتی پراکسی گروپ کے 4 دہشتگرد ہلاک
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ ضلعی افسران سی ٹی ڈی کے ڈیجیٹل ٹولز اور جدید سہولیات سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، ایس پی تفتیش، اور دیگر افسران نے شرکت کی جبکہ زونل و ڈویژنل افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس میں قتل و بھتہ خوری کے مقدمات میں مفرور و مطلوب ملزمان کی گرفتاریوں سے متعلق پولیس کے اقدامات اور نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ کراچی میں قتل کی 65 فیصد وجوہات قبائلی دشمنی یا تصادم پر مبنی ہیں، جبکہ بھتہ خوری کی بیشتر شکایات پر پولیس نے بروقت ایکشن لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ذاتی یا کاروباری لین دین کو بھی بھتہ خوری کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان کی گرفتاریوں سے قتل اور بھتہ خوری کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قتل کے مقدمات میں مفرور ملزمان کی گرفتاری نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے کرے گی بلکہ خونی قبائلی تنازعات کے خاتمے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ انٹیلی جینس بیسڈ ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور انھیں باقاعدہ ٹاسکنگ دی جائے۔
قتل و بھتہ خوری میں ملوث مفرور ملزمان کی گرفتاریوں سے متعلق پولیس کے اقدامات عوامی سطح پر محسوس ہونے چاہیئں۔
آئی جی سندھ نے مقامی معززین کی مدد سے قبائلی تنازعات کے حل پر بھی زور دیا اور آئندہ اجلاس میں گرفتاریوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

6a0nue