کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں ہیوی ٹریفک اور ڈمپروں کی قانون شکنی نے خوفناک شکل اختیار کرلی — گزشتہ 10 ماہ اور 4 دنوں کے دوران 733 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 10 ہزار 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق 218 افراد کو براہِ راست ہیوی ٹریفک، ڈمپرز اور ٹریلرز کی ٹکر سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ان حادثات میں مرد، خواتین اور بچے سبھی شامل ہیں۔
گزشتہ روز لانڈھی چورنگی کے قریب ٹرالر کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوا، جبکہ گارڈن رامسوامی میں ایک ڈمپر نے میاں بیوی کو کچل دیا — شوہر موقع پر دم توڑ گیا اور بیوی شدید زخمی ہوگئی۔
اسی طرح ملیر ٹنکی کے قریب رات گئے ایک اور افسوسناک حادثے میں کم عمر نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق بسوں، منی بسوں، کوچز، ٹریلرز، مزدا ٹرکوں، ڈمپروں، واٹر اور آئل ٹینکروں کے ہاتھوں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں موٹر سائیکل سواروں کی ہوئیں، جب کہ پیدل چلنے والے اور دیگر گاڑی سوار افراد دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں نرمی اور کمزور کارروائیوں کے باعث یہ المناک سلسلہ تاحال جاری ہے، جبکہ شہری روزانہ ہیوی ٹریفک کے بے قابو جنون کا خمیازہ اپنی جانوں سے ادا کر رہے ہیں۔
