کراچی: انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ غلام نبی میمن کی زیرِ صدارت "فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم” اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے متعلق دوسرا جائزہ اجلاس سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقد ہوا۔
اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزم سلیمان گرفتار، شہریوں سے لوٹے گئے موبائل آن لائن فروخت کرتا تھا
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز، اے آئی جیز، اور ضلعی ایس ایس پیز نے شرکت کی، جب کہ بعض افسران نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ نئے ٹریفک قوانین اور جرمانوں کا نفاذ صوبے بھر میں یکساں طور پر کیا جا رہا ہے۔ ضلعی ٹریفک افسران کو ہدایت دی گئی کہ "بغیر نمبر پلیٹ” چلنے والی گاڑیوں سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر کارروائی نئے قوانین کے مطابق یقینی بنائی جائے۔
ان کے مطابق 50 اقسام کی ٹریفک خلاف ورزیوں پر 5 ہزار روپے تک کا جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 14 روز کے اندر ادائیگی کی صورت میں 50 فیصد رعایت دی گئی ہے، یعنی رعایتی جرمانہ 2 سے ڈھائی ہزار روپے تک ہو گا۔
آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ آگاہی اور تنبیہ کے باوجود جرمانے کی عدم ادائیگی پر جرمانہ بڑھتا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی صوبے بھر میں ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی مہم تیز کرنے اور ہر ضلع میں ٹریفک شکایات کے لیے سہولت سینٹرز قائم کرنے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت 59 خلاف ورزیوں کو مانیٹر اور جرمانہ کیا جا رہا ہے، جن میں سے 9 انتہائی سنگین خلاف ورزیاں — جیسے ون وے، کم عمر ڈرائیونگ، ون ویلنگ، ڈرفٹنگ، بغیر لائٹس گاڑی چلانا، غیر رجسٹرڈ گاڑیاں، ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی اور خطرناک اوورٹیکنگ — پر 5 ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی بھاری گاڑیوں کے جرمانوں سے متعلق غلط معلومات کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ صرف کراچی میں 11 سہولت سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ایس پی، سی پی ایل سی نمائندہ اور متعلقہ ٹریفک افسران شکایات کا ازالہ کریں گے۔
مزید بتایا گیا کہ جرمانے سے متعلق اطلاع پاکستان پوسٹ، ایس ایم ایس سروس اور ایپلیکیشن کے ذریعے دی جا رہی ہے، اور شکایت کے ازالے کا وقت جرمانے کی مدت میں شمار نہیں ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر بتایا گیا کہ کراچی میں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے روڈ سیفٹی اقدامات کا آغاز آج سے کر دیا گیا ہے۔
