کراچی — بلدیہ عظمیٰ کراچی نے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایات پر اورنگی ٹاؤن میں ایمنیٹی پلاٹ کے غیر قانونی استعمال کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے پانچ ایکڑ سے زائد قیمتی زمین واگزار کرالی، جس کی مالیت ایک ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔
کراچی میں دل دہلا دینے والا انکشاف اسپتال انتظامیہ نے بل کے عوض نوزائیدہ بچہ فروخت کردیا
ذرائع کے مطابق یہ زمین ہاسپٹل کے نام پر حاصل کی گئی تھی، تاہم موقع پر آڈیٹوریم، اسکول، کینٹین اور دیگر غیر قانونی کمرشل سرگرمیاں جاری تھیں۔
آپریشن پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی ٹاؤن شپ فیصل رضوی کی نگرانی میں کیا گیا، جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور رینجرز نے بھی بھرپور معاونت فراہم کی۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ٹیم نے غیر قانونی سرگرمیوں کو ختم کرتے ہوئے مقام کو سیل کر دیا اور زمین کو دوبارہ بی ایم سی کے کنٹرول میں لے لیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کامیاب کارروائی پر ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا:
“شہر کی ایک ایک انچ زمین عوام کی امانت ہے، اس کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔ افسران اور عملے کی محنت سے ہم مزید زمینیں بھی واپس حاصل کریں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ لیز منسوخی کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنی دیگر قیمتی اراضیات بھی واپس لے کر عوامی مفاد کے منصوبوں کے لیے استعمال کرے گی۔
میئر کراچی کے مطابق غیر قانونی تجاوزات اور غلط استعمال کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔

