امریکی حکومت نے ورک پرمٹ (EAD) کی خودکار توسیع ختم کرنے کا نیا قانون نافذ کردیا ہے، جو 30 اکتوبر 2025 کے بعد جمع کرائی جانے والی تمام تجدیدی درخواستوں پر لاگو ہوگا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اسٹریٹ کرائم کیس میں ملزم اللہ رکھا کو 5 مقدمات میں مجرم قرار دے کر 18 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی
یہ فیصلہ امریکی شہریت و امیگریشن سروس (USCIS) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کیا گیا، جس کے مطابق اب غیر ملکی شہریوں کو اپنے ورک پرمٹ کی مدت ختم ہونے سے 180 دن پہلے تجدید کی درخواست درست اور بروقت جمع کرانا ہوگی۔
متاثرہ افراد:
یہ قانون خاص طور پر H-4 ویزا ہولڈرز اور بعض H-1B ویزا رکھنے والے افراد کے شوہر یا بیویوں پر اثرانداز ہوگا، جن کے روزگار کے اجازت نامے نئی شرائط کے مطابق مشروط ہو جائیں گے۔
خودکار توسیع کا خاتمہ:
پچھلی پالیسی کے تحت اہل افراد اپنے ورک پرمٹ ختم ہونے کے بعد بھی 540 دن تک کام جاری رکھ سکتے تھے، بشرطیکہ انہوں نے وقت پر تجدید کی درخواست جمع کرائی ہو۔
تاہم نئے قانون میں یہ سہولت تقریباً تمام کیسز میں ختم کر دی گئی ہے۔ اب جیسے ہی ورک پرمٹ ختم ہوگا، فرد کو کام روکنا پڑے گا جب تک نیا اجازت نامہ جاری نہ ہو۔
پرانے کیسز پر اطلاق نہیں ہوگا:
یو ایس سی آئی ایس کے مطابق 30 اکتوبر سے پہلے جمع کرائی گئی درخواستوں پر پرانا قانون ہی لاگو ہوگا اور وہ اب بھی خودکار توسیع کی اہل رہیں گی۔
ڈی ایچ ایس (DHS) کا مؤقف:
امریکی محکمہ برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی شہریوں کی جانچ، تصدیق اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا ہے، تاکہ دھوکا دہی اور سلامتی کے خطرات کی نشاندہی ممکن ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ورک پرمٹ کی خودکار توسیع ختم کرنے سے یو ایس سی آئی ایس کو مشتبہ کیسز کی جانچ میں آسانی ہوگی اور ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والوں کے خلاف کارروائی تیز کی جا سکے گی۔
یو ایس سی آئی ایس کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے کہا:
’’ہم ان پالیسیوں کو ختم کر رہے ہیں جو پچھلی حکومت نے غیر ملکیوں کی سہولت کو امریکی عوام کی سلامتی پر ترجیح دیتے ہوئے نافذ کی تھیں۔‘‘
یہ اقدام امریکی انتظامیہ کی حالیہ امیگریشن سخت پالیسیوں کی کڑی ہے، جن میں H-1B ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر اضافی فیس اور ورک پرمٹ کے لیے مزید سخت تصدیقی شرائط شامل ہیں۔
