سینٹرل جیل کراچی کے احاطے میں قائم جوڈیشل کمپلیکس میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 15 نے اسٹریٹ کرائم کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم اللہ رکھا کو مجرم قرار دے دیا۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ ای چالان سے سڑکوں پر نظم و ضبط آیا خامیوں کی شرح محض چند معاملات تک محدود ہے
استغاثہ کے وکیل نصراللہ مجید اور وکیلِ صفائی کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم پر عائد پانچوں الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔
عدالت نے مجرم اللہ رکھا کو دفعہ 397 (ڈکیتی یا چوری کے دوران شدید زخمی کرنے کی کوشش) کے تحت 7 سال قید،
دفعہ 324 (اقدامِ قتل) کے تحت 5 سال قید،
غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت 5، 5 سال قید،
جبکہ دفعہ 353 (سرکاری اہلکار کو ڈیوٹی سے روکنے کے لیے حملہ) کے تحت ایک سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے مجموعی طور پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید قید کا حکم دیا۔
فیصلے میں عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا:
’’کراچی میں موبائل فونز، موٹرسائیکلوں اور دیگر قیمتی اشیا چھیننے کے جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سیکڑوں شہری ان وارداتوں میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔‘‘
مزید کہا گیا کہ اگر عدالتیں اس نوعیت کے جرائم پر سخت سزائیں نہ دیں تو معاشرے میں قانون کا خوف ختم ہو جائے گا اور جرائم کی شرح مزید بڑھے گی۔
استغاثہ کے مطابق:
یہ واقعہ 12 اپریل کو اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکار وقار اور عمر خان ڈیوٹی کے لیے ایس آئی یو/سی آئی اے دفتر جا رہے تھے۔ قائدآباد کے قریب دو اسٹریٹ کرمنلز نے انہیں روک کر موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔
مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کی جس سے اہلکار وقار زخمی ہوا، تاہم جوابی فائرنگ میں ایک ملزم اللہ رکھا زخمی حالت میں گرفتار جبکہ اس کا ساتھی شاکر فرار ہوگیا۔
عدالت کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر نے ملزم کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پیش کیا، اگرچہ ملزم کا دعویٰ تھا کہ وہ پہلے مقدمات میں بری ہو چکا ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ
’’ملزم کا سابقہ ریکارڈ اس کے مجرمانہ ذہن اور معاشرتی نظم کے خلاف رویے کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
عدالت نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے جرائم کے خلاف قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ شہریوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہو۔
