کراچی (تشکر نیوز) — وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے میٹا کے وفد نے ملاقات کی جس میں ڈیجیٹل اسکلز، تعلیم، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آئی ٹی سیکٹر میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیو کراچی میں پولیس کی بروقت کارروائی، ایک ڈاکو ہلاک، ایک گرفتار
میٹا کے 8 رکنی وفد کی قیادت سائوتھ اینڈ سینٹرل ایشیا کے ڈائریکٹر پبلک پالیسی صارم عزیز نے کی، وفد میں دانیہ مختار، تہارا پنچی ہیوا، روئیچی ٹی او، گیلن، ملک احسان، سنین قاضی اور عباس علی لوٹیا شامل تھے۔
ملاقات میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر تعلیم سردار علی شاہ، معاون خصوصی برائے آئی ٹی علی راشد، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور سیکریٹری آئی ٹی نور محمد سموں بھی شریک تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تعاون پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ سندھ حکومت، وفاقی حکومت اور میٹا کے درمیان ’لاما‘ منصوبے پر شراکت داری کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’لاما‘ ماڈل کے تحت پاکستان تحقیق، اسٹارٹ اپس اور جامعات کے ذریعے مقامی حل اور اختراعات کو فروغ دے گا، شراکت داری سے مقامی زبانوں، تعلیم اور گورننس کے لیے اے آئی ایپلی کیشنز تیار کی جائیں گی۔
میٹا وفد نے وزیراعلیٰ سندھ کو ایشیا پیسفک میں ’لاما‘ کے کامیاب استعمال پر بریفنگ دی اور پاکستان میں خودکار انتظامی نظام، ورچوئل ٹورازم اور طبی رپورٹ سازی میں اے آئی کے استعمال پر تعاون کی پیشکش کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کا وژن حقیقت بن رہا ہے۔
