ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا سیاسی مؤقف واضح، کسی جماعت میں شمولیت سے انکار

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ “منافقت” پر مبنی سیاست کا حصہ بنیں گے، جس میں ایک طرف کسی کو قاتل کہا جائے اور دوسری طرف اسی سے ملاقاتیں کی جائیں۔

پاکستان نے معرکۂ حق میں دشمن کو مؤثر جواب دے کر اپنی طاقت منوائی، قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: عطا تارڑ

حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس وسائل محدود ہیں جبکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس وسیع وسائل موجود ہیں، تاہم اگر وقت آیا تو وہ انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کا کیس تاحال حل نہیں ہوا اور وہ مسلسل انصاف کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ سندھ پولیس میں کچھ اہلکار عوام کی خدمت کرتے ہیں لیکن زیادہ تر نظام امیر طبقے کے اثر میں کام کرتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے بتایا کہ انہوں نے “ذوالفقار علی بھٹو رابطہ کمیٹی” تشکیل دی ہے تاکہ اپنے سیاسی اور سماجی مؤقف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں بنیں گے اور آزادانہ سیاسی راستہ اختیار کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ پیر پگارا ان کے والد کے قریبی دوست رہے ہیں اور وہ انہیں سیاسی طور پر سپورٹ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں بات ہو سکتی ہے، لیکن کسی جماعت میں باقاعدہ شمولیت نہیں ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!