امریکی دباؤ کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری معطل کر دی

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر درآمدی محصولات میں 50 فیصد اضافہ کیا اور نئی دہلی پر الزام عائد کیا کہ وہ روس سے رعایتی تیل خرید کر یوکرین جنگ میں ماسکو کی مدد کر رہا ہے۔
وزارتِ آئی ٹی کا بڑا قدم ملک بھر میں 250 مشترکہ ورکنگ مراکز کے قیام کا منصوبہ

امریکی دباؤ کے بعد بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے مبینہ طور پر روسی تیل کی درآمدات میں کمی پر آمادگی ظاہر کی، تاہم بھارتی حکومت نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

بھارت کی توانائی کمپنی ایچ پی سی ایل-مِتّل انرجی لمیٹڈ (HMEL) — جو ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور لکشمی نیواس مِتّل کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے — نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی مزید خریداری معطل کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ نے روسی خام تیل پر نئی پابندیاں عائد کیں۔
ایچ ایم ای ایل نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی تمام کاروباری سرگرمیاں بھارتی حکومت کی توانائی سلامتی پالیسی کے مطابق ہیں۔

ادھر بھارت میں روسی تیل کی سب سے بڑی خریدار کمپنی رِیلائنس انڈسٹریز نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین اور واشنگٹن کی پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور حکومتی ہدایات کے مطابق عمل کرے گی۔

فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایچ ایم ای ایل کو روسی تیل کی متعدد ترسیلات ان جہازوں کے ذریعے موصول ہوئیں جنہیں بعد ازاں امریکا اور یورپی یونین نے بلیک لسٹ کر دیا۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ اس نے وہ جہاز خود چارٹر نہیں کیے تھے اور ترسیل کے وقت ان پر کوئی پابندی نہیں تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی تیل پر انحصار کم کرنے سے بھارت کی توانائی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ملک اپنی ضروریات کا 85 فیصد خام تیل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔

یاد رہے کہ نئی دہلی نے 2022 میں روس سے سستا تیل خریدنا شروع کیا تھا تاکہ مغربی پابندیوں کے بعد رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

One thought on “امریکی دباؤ کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری معطل کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!