خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے وفاقی حکومت پر الزامات کے بعد بلٹ پروف گاڑیوں کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس میں اب بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن
نقوی بھی شامل ہوگئے ہیں۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں آئی یو بی ٹیک ایکسپو 2025 کا انعقاد طلبہ کے جدید پراجیکٹس نے سب کو متاثر کردیا
پیر کے روز سہیل آفریدی نے صوبے میں دہشت گردی کی تازہ لہر کا ذمہ دار وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاق نہ تو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے لیے خیبر پختونخوا کو فنڈز فراہم کر رہا ہے اور نہ ہی آئینی حقوق دے رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے فراہم کردہ بلٹ پروف گاڑیاں “خراب اور پرانی” ہیں، جنہیں صوبائی حکومت نے واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
منگل کی رات، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت بلٹ پروف گاڑیاں لینے سے انکار کر رہی ہے تو وہ بلوچستان کو منتقل کر دی جائیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔
اس پر آج محسن نقوی نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ “وزیراعلیٰ صاحب، ٹھیک ہے، یہ بلٹ پروف گاڑیاں فوراً بلوچستان بھیجی جائیں گی تاکہ انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مضبوط کیا جا سکے، اس معاملے کو اجاگر کرنے کا شکریہ۔”
ادھر وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سہیل آفریدی کے بیان کو “سیاسی پوائنٹ اسکورنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “خیبر پختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہی بلکہ وفاق کو بلیک میل کرنے کے لیے یہ معاملہ اچھال رہی ہے۔”
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “اگر وزیراعلیٰ کو بلٹ پروف گاڑیاں پسند نہیں آئیں تو وہ اپنی گاڑیاں دے دیں۔”
یاد رہے کہ نومبر 2022 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے حکومت کے ساتھ سیز فائر ختم ہونے کے بعد ملک، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی دہشت گردی انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان اس وقت دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔
