صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ کراچی میں بی آر ٹی آپریشنل کنٹرول سینٹر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے والی اور نوکری پیشہ خواتین کے لیے پنک اسکوٹر سروس شروع کی جا چکی ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ میں بہتری حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔
مودی اور ٹرمپ کے درمیان روسی تیل پر بات چیت کی تردید بھارت کا مؤقف ٹرمپ کا سخت ردِعمل
شرجیل میمن نے کہا کہ گرین لائن وفاقی منصوبہ تھا جو اسی سال سندھ حکومت کو منتقل ہوا، اس سال مزید ای وی (الیکٹرک) بسیں روٹس پر لائی جائیں گی، اور ڈبل ڈیکر بسیں بھی جلد شروع کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے مختلف شہروں میں پیپلز بس سروس کامیابی سے چل رہی ہے، جسے اس سال مزید 3 سے 4 اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ بارشوں کے باعث کراچی کی چند سڑکیں خراب ہوئیں جس سے بس روٹس پر مسائل پیدا ہوئے، تاہم انتظامیہ ان کی مرمت پر کام کر رہی ہے۔ ڈالر ریٹ میں اضافے کے سبب تعمیراتی سامان مہنگا ہونے سے کچھ اسکیمیں متاثر ہوئیں، مگر حکومت شہریوں کے مسائل سے آگاہ ہے اور جلد حل یقینی بنایا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ یلو لائن منصوبہ وقت پر جاری ہے جبکہ ریڈ لائن پر کام تیزی سے ہو رہا ہے۔
گندم کی قیمت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے وفاق سے 4200 روپے فی من سپورٹ پرائس مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپنے کسان کو سپورٹ نہیں دیں گے تو وہ گندم کیوں اگائے گا؟ “کسی اور کو فائدہ دینے سے بہتر ہے کہ اپنے کسان کو فائدہ دیا جائے۔”
افغان شہریوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کو قانون کے مطابق اپنے ملک واپس جانا ہوگا۔ خالی کی جانے والی افغان بستیاں سرکاری زمینیں ہیں، جن پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
