پشاور: دہشت گردی بڑھنے کی بڑی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پشاور (اسٹاف رپورٹر) پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی بنیادی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران خیبرپختونخوا میں اب تک 10 ہزار 115 کارروائیاں کی جاچکی ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 40 انٹیلی جنس آپریشن کیے جا رہے ہیں۔

سندھ لیبر قانون سازی میں سب سے آگے ہے، محنت کش طبقے کو درپیش مسائل حل کر رہے ہیں، سعید غنی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ رواں برس ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد گزشتہ 10 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جس میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی جاچکی ہیں۔ 2025 کے دوران صرف خیبرپختونخوا میں آپریشنز کے دوران 516 اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دھرتی کے بہادر سپوتوں نے اپنے خون سے بہادری کی نئی تاریخ رقم کی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں بھی قابل تحسین ہیں۔ تاہم صوبے میں نظم و نسق کی خامیوں کے باعث پاک فوج کے افسران، جوانوں اور شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے پھیلاؤ میں سب سے بڑا کردار گمراہ کن بیانیے کا ہے جسے دانستہ طور پر عام کیا گیا۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے کو بھی سیاسی رنگ دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج یہ بیانیہ کہاں سے آگیا کہ افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیجنا؟ ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں واضح درج ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کے استعمال کے لیے نہیں دی جائے گی لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اگست 2025 تک ملک بھر میں 54 فیصد مدارس کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے۔ تاہم، خیبرپختونخوا میں عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزائیں نہ ملنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

57 / 100 SEO Score

One thought on “پشاور: دہشت گردی بڑھنے کی بڑی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!