کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے کراچی پولیس آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھتہ خوری ایک سنگین جرم ہے جو تاجر برادری اور کاروباری ماحول کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور یہاں بزنس کمیونٹی کو محفوظ اور پرامن فضا فراہم کرنا حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ لاخو گروپ اور صمد کاٹھیاواڑی ایران سے کراچی میں بھتہ خوری کے نیٹ ورک کو آپریٹ کر رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ کے اجراء کی درخواست دی جا چکی ہے اور وفاقی حکومت سے اس ضمن میں معاونت کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھتہ خوری کے خلاف سی آئی اے اور ضلعی پولیس نے مربوط کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور حالیہ آپریشنز کے دوران چار بھتہ خوروں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی گروہ یا جرائم پیشہ عناصر کو کراچی میں کھلے عام بھتہ پرچیاں دینے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ تاجروں کے مسائل اور شکایات کے اندراج کے لیے ایک ویب پورٹل بنایا جا رہا ہے جہاں تاجر برادری بھتہ خوری سے متعلق دھمکیوں اور دیگر مسائل کو آن لائن درج کر سکے گی، اور ان شکایات پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بتایا کہ صوبے میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں، جبکہ کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ رواں سال اسٹریٹ کرائم کے 28 فیصد واقعات میں مزاحمت پر شہری جاں بحق ہوئے، زخمیوں کی شرح 27 فیصد رہی، تاہم موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں بالترتیب 15 اور 8 فیصد کمی آئی ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیر داخلہ سندھ نے جرائم کے خلاف بہترین کارکردگی پر ایس ایس پی ایس آئی یو اور ان کی ٹیم کو تعریفی اسناد پیش کیں۔
اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو، زونل ڈی آئی جیز، سی آئی اے، ایڈمن اور ایس ایس پی ایس آئی یو سمیت دیگر افسران بھی شریک تھے۔

