پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وہ یہاں آئے ہیں اور عوامِ بہادر کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
منیب بٹ کا انکشاف بیٹیوں کی پیدائش کے بعد خوشیاں اور کامیابیاں بڑھ گئیں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ نومبر 2024 کے بعد خیبرپختونخوا میں 14,535 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کی یومیہ اوسط تقریباً 40 آپریشنز بنتی ہے۔ 2024 میں آپریشنز کے دوران 769 دہشت گرد ہلاک ہوئے (یومیہ اوسط 2.1)، جبکہ ان کارروائیوں میں 577 شہداء ہوئے جن میں پاک فوج کے 272 افسر و جوان، 140 پولیس اہلکار اور 165 معصوم شہری شامل ہیں۔
رواں سال 2025 کے دوران (15 ستمبر تک) صوبے میں 10,115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن میں 917 دہشت گرد ہلاک ہوئے (یومیہ اوسط 3.5) اور ان آپریشنز کے دوران 516 شہداء دیے گئے جن میں فوج کے 311 افسر و جوان، پولیس کے 73 اہلکار اور 132 شہری شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے برقرار رہنے کی پانچ بنیادی وجوہات بھی بتائیں:
نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل نہ کرنا۔
دہشت گردی کو سیاست کا موضوع بنانا۔
بھارت کی جانب سے افغانستان کو دہشت گردی کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا۔
افغانستان میں دہشت گردوں کو جدید ہتھیار اور پناہ گاہیں میسر ہونا۔
مقامی اور سیاسی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ۔
انہوں نے واضح کیا کہ 2024 اور 2025 میں مارے گئے خارجی دہشت گردوں کی تعداد 161 ہے، جب کہ سرحدی دخل اندازی اور خودکش حملوں میں ملوث خارجی عناصر کے اعداد و شمار بھی موجود ہیں۔ ڈسپلے کے دوران انہوں نے افغانستان میں چھوڑی گئی امریکی ہتھیاروں کی تصاویر بھی میڈیا کو دکھائیں اور کہا کہ یہ ہتھیار مختلف خارجی عناصر کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے عدالتی کارروائیوں، مقدمات کی التوا اور سزا کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا۔ اُن کے مطابق منشیات اور غیرقانونی ہتھیاروں کے خلاف کیسز میں سزا کی شرح نازک ہے اور انسداد دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات زیر التوا ہیں، جو انسداد دہشت گردی کی موثر مہم میں رکاوٹ ہیں۔ اسی طرح صوبائی سی ٹی ڈی کی دستیاب قوت محض 3,200 اہلکار بتائی گئی جو موجودہ خطرات کے مقابلے ناکافی ہیں۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گورننس کا خلا پر کرنا، نیشنل ایکشن پلان پر اتفاقِ رائے اور اس پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست نے سہولت کاروں کو تین انتخاب دیے ہیں: 1) خارجی افراد کو ریاست کے حوالے کریں، 2) ریاست کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کریں، یا 3) اگر نہ کریں تو ریاستی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی اور مقامی سطح پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والوں کی نشاندہی کی اور اس ضمن میں شفاف کارروائیوں پر زور دیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں اور شہداء کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دی جائے گی۔
