کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) مزمّل حسین ھالیپوٹو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کے ویژن اور صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی ہدایات کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے اور عوامی خدمت میں بہتری اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ویجیلنس، ڈیمالیشن اور ڈسٹرکٹ کے ٹیکنیکل سیکشن سمیت عوامی شکایات سیل کی ہفتہ وار رپورٹس پر سختی سے عمل کیا جائے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
کراچی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ غیر معیاری اور غیر قانونی تعمیرات شہری مسائل میں اضافے اور انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں، اس لیے ان کے خلاف نتیجہ خیز اور سخت کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ خاص طور پر اضافی منزلوں سمیت تمام تعمیراتی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور خطرناک عمارات کو خالی کرانے کے لیے متعلقہ محکموں کے تعاون سے اقدامات کیے جائیں۔
ڈی جی نے کہا کہ ادارے کی نیک نامی کے لیے ضروری ہے کہ عدالتی احکامات کی مکمل تعمیل، شہریوں کے انفرادی بلڈنگ پلانز اور کمرشل پروجیکٹس کی بروقت منظوری اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے۔ غفلت یا لاپرواہی کی صورت میں سخت فیصلے کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکنیکل افسران اور اسٹاف کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے انہیں این ای ڈی یونیورسٹی سے خصوصی کورسز کرائے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر کی اہم شاہراہوں کی تزئین و آرائش اور بیوٹی فکیشن کا منصوبہ دوبارہ شروع کیا جائے گا تاکہ شہری ماحول کو خوشگوار اور عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔
اجلاس میں ایس بی سی اے کے تمام ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور فیلڈ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران جاری کریک ڈاؤن، منہدم کی گئی غیر قانونی عمارتوں، سربمہر پلاٹس اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ متعلقہ ڈائریکٹرز نے اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں اور غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے مزید تجاویز بھی دیں۔

