وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے تشکر نیوز کے پروگرام دوسرا رخ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے ایکس انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ مزید شواہد سامنے آنے کے بعد نتائج جلد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
آزاد کشمیر میں مذاکرات کامیاب مظاہرین گھروں کو روانہ وزیراعظم نے امن کی فتح قرار دیا
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کے تانے بانے جہاں سے ملتے ہیں یا جو اسے چلا رہا ہے، اس بارے میں قانونی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے، اس وقت صرف اتنا بتایا جا سکتا ہے کہ معاملہ تحقیقات کے عمل میں ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عمران خان کے ایکس ہینڈل کے استعمال سے متعلق نئی پیش رفت کے بعد بانی پی ٹی آئی کو 21 نکاتی سوالنامہ بھجوایا تھا۔
ذرائع کے مطابق سوالنامے میں پوچھا گیا ہے کہ جیل میں ہونے کے باوجود آپ کا ایکس اکاؤنٹ فعال کیسے ہے؟ اسے کون آپریٹ کرتا ہے؟ کیا ذاتی ایکس اکاؤنٹ سے ہونے والی پوسٹس آپ تسلیم کرتے ہیں؟ اور کیا ملک مخالف ٹوئٹس آپ کی مرضی سے پوسٹ کی جاتی ہیں؟
این سی سی آئی اے کی ٹیم دو بار اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر چکی ہے تاہم بانی پی ٹی آئی نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد تحریری سوالنامہ ان کے حوالے کیا گیا۔ دوسری ملاقات میں عمران خان اور تحقیقاتی ٹیم کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ 14 مئی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے مقدمات کے سلسلے میں عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کی اجازت دی تھی۔ تاہم عمران خان نے متعدد بار تحقیقاتی ٹیم کے اصرار کے باوجود ٹیسٹ کرانے سے انکار کر دیا تھا۔
