کراچی (اسٹاف رپورٹر) — صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی ہدایات پر ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) مزمل حسین ہالیپوٹو نے سندھ بھر میں خطرناک عمارتوں اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کردی ہے۔
وزیر محنت سندھ سعید غنی سے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما اسد علی میمن کی ملاقات
ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ یہ اقدامات شہریوں کی جانوں کے تحفظ، شہری سلامتی اور تعمیراتی عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے صوبے کی تمام خطرناک عمارتوں کا جامع سروے کرنے اور غیرقانونی تعمیرات کو موقع پر ہی مسمار کرنے کے احکامات جاری کیے۔
مزمل حسین ہالیپوٹو نے بلڈنگ انسپکٹرز، اسسٹنٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو اپنی حدود میں سخت نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ خلاف ورزیوں کی بروقت نشاندہی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے گریڈنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا جبکہ تمام فیلڈ افسران کو اپنی سرگرمیوں کا روزانہ ریکارڈ فیلڈ بُک میں درج کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
ڈی جی نے آئی ٹی سیکشن کو ہدایت دی کہ خطرناک عمارتوں اور مسمار کی گئی تعمیرات کا ڈیٹا بیس تیار کرکے روزانہ اپ ڈیٹ کیا جائے، ساتھ ہی جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم بھی نافذ کیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فرائض میں غفلت یا رپورٹ جمع نہ کرانے والے افسران کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت سخت کارروائی ہوگی۔ مزید برآں، تمام افسران کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ صبح 9 بجے دفاتر میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔
مزمل حسین ہالیپوٹو نے کہا کہ حکومت شفافیت، کارکردگی اور عوامی خدمت کے وژن پر عمل پیرا ہے، اور شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی غیرقانونی یا خطرناک تعمیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
