زبان بند اور ہاتھ توڑنے والا لہجہ مناسب نہیں، قمر زمان کائرہ کا ردعمل

لاہور — پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ زبان بند اور ہاتھ توڑ دوں گی سیاسی اور جمہوری لہجے کے لیے مناسب نہیں۔

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی پراکسی تنظیموں کے 13 دہشتگرد ہلاک

پیپلزپارٹی سیکرٹریٹ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے بحرانوں کا شکار رہا ہے اور ہر دور میں ان سے نمٹنے کی کوششیں کی گئیں۔ ہم نے نیک نیتی سے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور بار بار کوشش کی کہ طے شدہ معاہدوں پر عمل کیا جائے، تاہم ان میں سے کچھ پر عمل ہوا اور کچھ پر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے حکومت کو سپورٹ کیا ہے اور آج بھی ہماری کوشش ہے کہ ماضی کے زخم بھلائے جائیں، لیکن حالیہ بیانات جمہوری رویے کے برعکس ہیں۔ مسلم لیگ (ن) تنقید کرے مگر ماضی کا سخت لہجہ نہ اپنائے۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا اور حکومت کے اچھے اقدامات کی تعریف بھی کی، لیکن جب ہم تجاویز دیتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پنجاب پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ سیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے سے تجاویز دینا وفاق پر حملہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت کے خاتمے کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرامز میں شامل ہے، حکومت کو چاہیے کہ ایسے وقت میں تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرے۔ پنجاب پر تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ ہم صوبہ چھوڑ کر چلے جائیں۔

قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ حکمرانوں کے الفاظ وفاق کو مضبوط کرنے والے ہونے چاہئیں، نہ کہ ایسے جملے جو اختلافات کو بڑھائیں۔ ہم نے گرین بس اور الیکٹرک بسوں کے منصوبے سندھ میں شروع کیے، اس پر طعنے دینا درست نہیں۔ یو این سے اپیل کو بھیک کہنا غیر ضروری اور نامناسب بات ہے۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “زبان بند اور ہاتھ توڑنے والا لہجہ مناسب نہیں، قمر زمان کائرہ کا ردعمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!