لاہور میں بحرِ ہند کی اسٹریٹیجک صف بندی پر کانفرنس، پاکستان کے دوٹوک مؤقف اور علاقائی تعاون پر زور

لاہور (اسٹاف رپورٹر) — میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلینس (MCE) کے زیرِ اہتمام ’’بحرِ ہند کے خطے میں اسٹریٹیجک صف بندی: ایک سال بعد بدلتے رجحانات کا جائزہ‘‘ کے موضوع پر دوسری کانفرنس پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کے قومی سلامتی کے تقاضوں، بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خطے میں ابھرتے چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

پاکستان کا خلائی میدان میں بڑا قدم: اکتوبر میں پہلا جدید ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ لانچ ہوگا

سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات (ریٹائرڈ) نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف سمندر کی سمت سے کوئی جارحیت یا شرپسندی ہوئی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری براہِ راست بھارت پر ہوگی، پاکستان کا ردعمل فوری، غیر متوقع اور مؤثر ہوگا۔

سابق وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بحرِ ہند میں ابھرتے سمندری چیلنجز کے حل کے لیے سفارتی حکمتِ عملی، علاقائی تعاون اور کثیرالجہتی روابط ناگزیر ہیں۔

قبل ازیں، صدر MCE اور کمانڈنٹ نیوی وار کالج ریئر ایڈمرل سہیل احمد عزمی نے افتتاحی کلمات میں بحرِ ہند کی اسٹریٹیجک اہمیت اور بدلتے عالمی منظرنامے کے تناظر میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی۔

دیگر ممتاز مقررین میں لیفٹیننٹ جنرل خالد احمد کدوائی (ریٹائرڈ)، سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری، وائس ایڈمرل خان حشام بن صدیق (ریٹائرڈ)، وائس ایڈمرل احمد سعید (ریٹائرڈ)، ایئر مارشل جاوید احمد (ریٹائرڈ)، ڈاکٹر سلمہ ملک، ریئر ایڈمرل سید فیصل علی شاہ (ریٹائرڈ) اور بریگیڈیئر ڈاکٹر نعیم سالک (ریٹائرڈ) شامل تھے۔

کانفرنس میں معروف سفارتکاروں، دفاعی ماہرین، میڈیا نمائندگان، اسکالرز اور بڑی تعداد میں یونیورسٹی طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔

66 / 100 SEO Score

2 thoughts on “لاہور میں بحرِ ہند کی اسٹریٹیجک صف بندی پر کانفرنس، پاکستان کے دوٹوک مؤقف اور علاقائی تعاون پر زور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!