کراچی: میمن گوٹھ تھانے کی حدود میں تین خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ ان کے گرو ظفر کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
کراچی پولیس کی ایک ہفتے میں 732 ملزمان گرفتار، 20 مقابلے، اسلحہ و منشیات برآمد
پولیس کے مطابق واقعہ گزشتہ روز پیش آیا تھا جب تین خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ دو مقتولین کو سینے پر جبکہ ایک کو سر میں گولی ماری گئی تھی۔ مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ مقتولین ایلکس، جیئل اور اسما ایک ہی علاقے میں رہائش پذیر تھے اور واٹس ایپ کے ذریعے قتل کی اطلاع ملی۔
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے 9 ایم ایم پستول کے دو خول ملے ہیں جبکہ کرائم سین پر کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا۔ مقتولین میں سے دو کی شناخت نادرا کے ڈیٹا سے ایلکس ریاست اور جیئل کے نام سے ہوئی ہے، جنہوں نے اپنے شناختی کارڈ میں جنس مرد درج کرائی تھی۔
ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کا کہنا ہے کہ واقعے کو ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی اور فوری گرفتاری کا حکم دیا۔
واقعے کے خلاف اتوار کو خواجہ سراؤں نے جناح اسپتال کے باہر احتجاج بھی کیا تھا۔ پولیس نے لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا ہے۔

