بھارت میں مودی سرکار کا جنگی جنون بے قابو ہو گیا ہے اور نئی دہلی مزید مہنگے جنگی ہتھیاروں کی خریداری میں مصروف ہے۔ رپورٹس کے مطابق انڈین ائیر فورس نے وزارتِ دفاع کو مزید 114 رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بھارتی فضائیہ کو ایسے ملٹی رول طیاروں کی ضرورت بتائی جا رہی ہے جو مختلف محاذوں پر آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
تھائی لینڈ: سیلاب سے پولٹری فارم میں 50 ہزار مرغیاں ہلاک، کروڑوں کا نقصان
بھارتی اخبار دی ٹریبیون کے مطابق وزارت دفاع ٹینڈر کے بجائے براہِ راست فرانسیسی رافیل کا انتخاب کرے گی۔ طیارے "میڈ اِن انڈیا” اسکیم کے تحت بھارت میں تیار کیے جائیں گے، جہاں رافیل بنانے والی کمپنی ڈیسالٹ ایوی ایشن ایک مقامی بھارتی فرم کے ساتھ شراکت میں یہ منصوبہ آگے بڑھائے گی۔ رپورٹ کے مطابق اس دفاعی معاہدے کی لاگت دو کھرب روپے سے زائد متوقع ہے، جو بھارت کے سب سے بڑے دفاعی سودوں میں شمار ہوگا۔
مزید کہا گیا ہے کہ نئے طیاروں میں مختلف جدید ہتھیار نصب ہوں گے اور ان میں ساٹھ فیصد تک مقامی مواد شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے M-88 انجن بنانے والی فرانسیسی کمپنی سافران نے حیدرآباد میں ایک انجن مرکز کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رافیل طیاروں کی نئی خریداری دراصل ماضی کی ناکامیوں کا اعتراف ہے۔ بھارتی حکومت جنگی ہتھیاروں کی خریداری کے ذریعے عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں اور اندرونی بحرانوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
