پنجاب اور سندھ کی سرحدی پٹی میں سیلاب کی دوسری لہر داخل ہوگئی جس کے نتیجے میں تباہی کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مختلف حادثات میں مزید انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
منچن آباد کے علاقے لالیکا کے قریب کشتی الٹنے سے ڈوبنے والے 2 نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ جلالپور پیر والا میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، شجاع آباد اور دھوندو کے بند ٹوٹ گئے، دریائے چناب کا پانی 138 بستیاں بہا لے گیا۔
پنجاب کے جنوبی اضلاع ملتان، وہاڑی، مظفرگڑھ، راجن پور، لیہ، خانیوال، بہاولپور اور بہاولنگر کے کئی علاقے زیر آب ہیں۔ ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق حالیہ سیلاب سے مجموعی طور پر 44 لاکھ 98 ہزار افراد متاثر ہوئے جبکہ 97 افراد مختلف حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ 4500 سے زائد دیہات براہِ راست متاثر ہوئے اور لاکھوں افراد کو ریلیف کیمپس منتقل کیا گیا۔
بہاولپور اور بہاولنگر میں کئی موضع جات کا زمینی رابطہ منقطع ہے، احمد پور شرقیہ کے 100 سے زائد گاؤں ڈوب گئے۔ موضع دھوندو کے قریب دریائے چناب کے بند میں 80 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے مزید بستیاں متاثر ہوئیں اور 3 مزدور ریلے میں بہہ گئے۔
کہروڑ پکا اور جھوک آہیر میں حفاظتی بند دریا کے دباؤ کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے مزید 500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، پانی کا بہاؤ 7 لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق حکومت نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔
حب ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے اور صرف ایک فٹ کی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ حب ندی کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دریائے سندھ کے گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب چھٹے روز بھی برقرار ہے، پانی کی سطح بلند ہونے سے نوشہرو فیروز اور دیگر اضلاع کی بستیاں زیر آب آگئیں۔
