اسٹاک ہوم (انٹرنیشنل ڈیسک) جمہوریت پر مبنی تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (آئی ڈی ای اے) کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران دنیا بھر میں صحافتی آزادی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو پچھلے 50 برسوں کی نچلی ترین سطح ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان، برکینا فاسو اور میانمار نے آزادی صحافت میں سب سے بڑی گراوٹ کا سامنا کیا، جب کہ جنوبی کوریا میں بھی قابل ذکر کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات اور گھروں پر چھاپے قرار دیے گئے۔
آئی ڈی ای اے کے سیکریٹری جنرل کیون کاساس-زامورا نے خبردار کیا کہ دنیا میں جمہوریت کی مجموعی حالت تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق 2019 سے 2024 کے درمیان دنیا کے 54 فیصد ممالک نے جمہوریت کے کم از کم ایک کلیدی اشاریے میں تنزلی دیکھی۔
رپورٹ کے مطابق صحافتی آزادی میں کمی 43 ممالک میں نوٹ کی گئی، جن میں افریقہ اور یورپ کے 15، 15 ممالک شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومتوں کی سخت مداخلت اور جھوٹی معلومات کا پھیلاؤ آزادی صحافت پر قدغن لگانے کا ذریعہ بنے ہیں۔
کیون کاساس-زامورا نے کہا کہ روایتی میڈیا کا ارتکاز اور مقامی میڈیا کا خاتمہ بھی جمہوری مباحثے کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں حالیہ سیاسی تبدیلیاں بھی دنیا بھر میں جمہوریت کے لیے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
