ڈھاکا (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش میں ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ یونین انتخابات میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترا شبر کے حمایت یافتہ پینل کی شاندار کامیابی نے بھارتی پروپیگنڈے کو دھول چٹا دی۔
تھڈو ڈیم اوور فلو: کونکر ندی میں ڈوبنے والے 7 افراد میں سے 4 کی لاشیں مل گئیں، 3 کی تلاش جاری
معروف روزنامہ پروتھم الو کے مطابق شبر کے حمایت یافتہ یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس الائنس کے امیدوار نائب صدر، جنرل سیکریٹری اور اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری کی نشستوں پر فاتح قرار پائے۔ ابو صادق قیوم نے 14 ہزار 42 ووٹ لے کر نائب صدر، ایس ایم فرہاد نے 10 ہزار 794 ووٹ لے کر جنرل سیکریٹری جبکہ محی الدین خان نے 11 ہزار 772 ووٹ حاصل کر کے اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری کا عہدہ اپنے نام کیا۔
الیکشن میں 39 ہزار 775 ووٹرز میں سے 78 فیصد سے زائد نے ووٹ کاسٹ کیا۔ چیف ریٹرننگ آفیسر پروفیسر محمد زشیم الدین نے انتخابی عمل کو شفاف اور قابلِ تقلید قرار دیا۔
روزنامہ دی ڈیلی اسٹار کے مطابق بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پہلی بار شبر کے حمایت یافتہ پینل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے 28 میں سے 23 نشستیں جیت لیں اور کیمپس کی سیاست کا منظرنامہ بدل دیا۔
یاد رہے کہ شبر کے رہنما صادق اور فرہاد جولائی کی عوامی بغاوت میں پیش پیش رہے تھے، جس کے نتیجے میں 5 اگست کو شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ارشاد حکومت کے بعد شبر پر عملی پابندی رہی تھی تاہم اب ان کی واپسی کیمپس کی سیاست میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ڈھاکا یونیورسٹی کے انتخابات کی تاریخ میں یہ آٹھواں موقع ہے جب اسٹوڈنٹس یونین کا انتخاب ہوا۔ ماضی میں زیادہ تر نشستیں بائیں بازو یا طلبہ لیگ کے پاس رہی ہیں، تاہم حالیہ نتیجہ بنگلہ دیشی طلبہ سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
