اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کے ججز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی تحفظات کو عوامی خطوط کے بجائے چائے کے کمرے، چیف جسٹس کے چیمبر یا کمیٹی رومز جیسے نجی فورمز پر اجاگر کریں۔
کراچی کی بارشوں نے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں مفلوج، کروڑوں کا نقصان
وزیر قانون نے کہا کہ عدلیہ جیسے حساس ادارے کے وقار کو مدِنظر رکھتے ہوئے ججز کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اپنے خدشات عوامی سطح پر بیان کریں۔ ان کے بقول، ’’ایسی روش سپریم کورٹ کی ساکھ کو مجروح کرتی ہے‘‘۔
یہ ردعمل ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ کے کئی ججز نے حالیہ خطوط میں فل کورٹ اجلاس اور نئے عدالتی رولز 2025 پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے خط میں فل کورٹ اجلاس کو ’’نمائشی مشق‘‘ اور ’’غیر قانونی عمل کو قانونی رنگ دینے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔
وزیر قانون نے یاد دلایا کہ نئے عدالتی سال کی تقریب میں بھی پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ججوں کو مشورہ دیا تھا کہ ایسے معاملات کو نجی سطح پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدشات درست ہیں تو ان کا ازالہ ادارہ جاتی دائرہ کار میں ہونا چاہیے، جبکہ وکلا تنظیمیں احتساب کے لیے مناسب فورم ہیں۔
قبل ازیں جسٹس منصور علی شاہ نے ایک اور خط میں چیف جسٹس پر عدلیہ کو ’’رجمنٹڈ فورس‘‘ میں بدلنے کی کوشش کا شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بار بار بھیجے گئے پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا، جس کے باعث وہ مجبوراً یہ خط لکھنے پر آمادہ ہوئے۔
