کراچی (اسٹاف رپورٹر) بدھ کے روز ہونے والی شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے کراچی کے صنعتی و تجارتی شعبے کو بری طرح متاثر کیا، جس سے پیداوار کا عمل مفلوج ہو گیا، فیکٹریاں بند رہیں اور کروڑوں روپے مالیت کا خام مال اور تیار سامان تباہ ہو گیا۔
بینکنگ سیکٹر کے اثاثوں میں 11 فیصد اضافہ، اسٹیٹ بینک کی وسط سالانہ رپورٹ جاری
تفصیلات کے مطابق نارتھ کراچی، سائٹ ایریا، کورنگی اور فیڈرل بی ایریا کے صنعتی زونز میں مزدوروں کی بڑی تعداد حفاظتی خدشات اور سفری مشکلات کے باعث ڈیوٹی پر نہ پہنچ سکی۔ نارتھ کراچی میں تقریباً ساڑھے 4 ہزار صنعتی یونٹس میں سے نصف بند رہے، جب کہ فیڈرل بی ایریا میں لیاری ندی کے طغیانی نے 100 سے زائد فیکٹریوں کو نقصان پہنچایا۔
سائٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 3,500 فیکٹریوں میں سے 60 فیصد مزدور حاضر نہ ہو سکے جس سے پیداوار میں 25 تا 30 فیصد کمی آئی۔ کورنگی کے صنعتی علاقے میں بجلی کی بندش اور افرادی قوت کی کمی کے باعث پیداوار میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ای کامرس بھی متاثر ہوا اور شپمنٹس تاخیر کا شکار ہوئیں، جب کہ کراچی کے بڑے تھوک تجارتی مراکز، بشمول ڈینڈیا بازار، جوڑیا بازار اور لی مارکیٹ کی 80 تا 90 فیصد دکانیں بند رہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارشوں اور انفرااسٹرکچر کی کمزوری کے مسائل پر فوری قابو نہ پایا گیا تو شہر کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
