دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال خدمات سرانجام دینے والے سندھ پولیس کے لیجنڈ افسر، راجہ عمر خطاب 35 سالہ شاندار سروس کے بعد 11 ستمبر 2025 کو ریٹائر ہوگئے۔
پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں جاری
راجہ عمر خطاب نے 1990 کی دہائی میں محمود آباد پولیس اسٹیشن سے اے ایس آئی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور محنت، نڈر مزاج اور فرض شناسی کی بدولت ایسی پہچان بنائی کہ آج ان کا نام دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کا استعارہ ہے۔
کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورکس کی کمر توڑنے والے اس مردِ مجاہد نے اپنے کیریئر میں درجنوں بڑے واقعات کی تفتیش اور کارروائیاں کامیابی سے مکمل کیں۔ ان میں امریکی قونصل خانے پر حملہ، جنرل پرویز مشرف پر حملہ، کراچی ایئرپورٹ حملہ، نشتر پارک بم دھماکہ، عاشورہ دھماکہ، امجد صابری کا قتل، سبین محمود کا قتل، آغا خانیوں کی بس پر حملہ، کراچی پولیس آفس حملہ اور درجنوں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے کیسز شامل ہیں۔
راجہ عمر خطاب کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے دو بار تمغہ امتیاز، ایک بار تمغہ شجاعت، دو بار پاکستان پولیس میڈل اور دو بار قائداعظم پولیس میڈل سے نوازا گیا۔ ان پر دہشت گردوں نے جان لیوا حملے بھی کیے لیکن وہ محفوظ رہے اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
ان کی قیادت میں سی ٹی ڈی سندھ نے دہشت گردی کے خلاف وہ کارنامے انجام دیے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ ساتھی افسران کے مطابق، وہ صرف کمانڈر نہیں بلکہ ایک روحانی باپ کی حیثیت رکھتے تھے، جنہوں نے اپنے جوانوں کی ہر موڑ پر حوصلہ افزائی کی۔
راجہ عمر خطاب کی ریٹائرمنٹ کو سندھ پولیس کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے، اور ان کی کمی کو "ہمیشہ نہ بھرتے والا خلاء” کہا جا رہا ہے۔
