اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے مبینہ اغوا اور نقدی چھیننے کے کیس کی سماعت ہوئی، جہاں گرفتار ملزم حسن زاہد نے عدالت کے روبرو جرم کا اعتراف کرلیا۔
پولیس نے ملزم حسن زاہد کو جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری کی عدالت میں پیش کیا۔ سماعت کے دوران جج نے ملزم سے استفسار کیا کہ "بتاؤ، تم نے یہ دھمکیاں کیوں دیں اور اغوا کیوں کیا؟” اس پر ملزم نے اعتراف کرتے ہوئے کہا: "سر! مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔”
اسلام آباد پولیس نے عدالت سے ملزم کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے گاڑی، پستول اور نقدی برآمد کرنی ہے۔ عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد ملزم کو 5 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
واضح رہے کہ ملزم حسن زاہد کے خلاف گزشتہ روز تھانہ شالیمار میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں خاتون کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزامات شامل ہیں۔ متاثرہ خاتون نے بتایا تھا کہ ملزم کئی روز سے ان کا تعاقب کر رہا تھا اور تحائف دے کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا رہا۔
ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ 31 اگست کو شام ساڑھے 6 بجے ملزم نے گھر کے باہر زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی اور کھلے عام جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ متاثرہ خاتون نے اس واقعے کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی تھی، جو بعد ازاں انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ پولیس کے حوالے کردی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
