گڈو : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت راوی اور تریموں پر پانی بڑھا ہوا ہے اور سندھ حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپر فلڈ 9 لاکھ کیوسکس کا ہوتا ہے، اگرچہ امید ہے کہ اتنا پانی نہیں آئے گا، تاہم خدشہ ہے کہ اس صورتحال میں پورا کچہ علاقہ ڈوب سکتا ہے۔
کراچی: پیرآباد پولیس کی بڑی کارروائی، اسٹریٹ کرائم میں ملوث عادی ملزم گرفتار
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ نے کچے کے تمام علاقے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ "ہمارے پاس آبادیوں کے نقشے، لوگوں اور مویشیوں کی مکمل تفصیلات موجود ہیں، یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کو فراہم کر دی گئی ہیں اور پی ڈی ایم اے کو بھرپور تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ پاک بحریہ، پاک فوج اور رینجرز سے قریبی رابطہ ہے، پاک بحریہ کی 192 کشتیاں کچے کے علاقوں میں تعینات کردی گئی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی لوگوں کے انخلاء کی تیاری کر رہی ہے۔ "سب سے پہلی ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچانا ہے”، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ بند کو کسی بھی جگہ سے ٹوٹنے سے بچانا لازمی ہے، کیونکہ سندھ کی زمین دریا سے نیچے ہونے کے باعث پانی واپس دریا میں جانے میں وقت لیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر 6 حساس مقامات ہیں جبکہ لیفٹ بینک پر شاہین بند زیادہ خطرناک ہے۔ "اگر آٹھ یا نو لاکھ کیوسکس پانی آیا تو شاہین بند اس کے دباؤ کو برداشت نہیں کرسکے گا، اس لیے اس بند کو بچانا ہماری اولین ترجیح ہوگی۔”
انہوں نے کہا کہ تریموں کے بعد بھی پانی سندھ میں پہنچنے میں پانچ دن لگیں گے، اس دوران انتظامیہ کے پاس تیاری کا وقت موجود ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔
