کراچی (اسپورٹس رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سینئر صحافی و محقق شاہ ولی اللہ جنیدی کی منفرد اسپورٹس کتاب ’’کراچی کے غیر مسلم کرکٹرز‘‘ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی، جس میں کرکٹ اور ادب و تحقیق سے وابستہ شخصیات نے اظہارِ خیال کیا۔
/پولینڈ میں ایف-16 جنگی طیارہ ریڈوم ایئر شو کی مشق کے دوران گر کر تباہ پائلٹ ہلاک
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے خطاب میں کہا کہ کرکٹ پر تحقیق اور تحریر ایک مشکل کام ہے، شاہ ولی اللہ جنیدی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دنیا کو کراچی کے غیر مسلم کرکٹرز کے بارے میں آگاہ کیا۔
فرسٹ کلاس کرکٹر اور بین الاقوامی کرکٹ مبصر قمر احمد نے کہا کہ کرکٹ کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں رہا، یہ رجحان انگریز دور میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ جنیدی کی یہ کتاب دنیا میں اپنے موضوع پر پہلی اور منفرد تصنیف ہے جو سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
معروف محقق اور سابق ڈائریکٹر قائداعظم اکیڈمی خواجہ رضی حیدر نے صدارتی خطاب میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کرکٹ میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور انہوں نے ہمیشہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کو تحفظ دینے کی بات کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تحریکِ خلافت کے رہنما مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی بھی علیگڑھ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم سے کھیلتے تھے۔
کتاب کے مصنف شاہ ولی اللہ جنیدی نے کہا کہ برطانوی دور کراچی کی ترقی کا سنہری دور تھا، اس وقت سے کرکٹ کو فروغ ملا اور سب سے پہلے پارسی کمیونٹی نے اس کھیل کو اپنایا۔ ان کے مطابق پارسی، یہودی، عیسائی، ہندو اور سکھ کرکٹرز نے کراچی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کراچی میں کرکٹ گراؤنڈ تیزی سے ختم ہورہے ہیں اور کرکٹ بورڈ بھی شہر سے منتقل ہوچکا ہے۔
تقریب سے اقبال الرحمان مانڈویا، عبدالشکور، فرشید روحانی، اقبال لطیف اور شکیل خان نے بھی خطاب کیا۔

