چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت سیلاب کی صورتحال پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متاثرہ اضلاع میں اضافی انتظامی افسران تعینات کرنے اور تعلیمی ادارے ایک ہفتے کیلئے بند رکھنے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں متاثرہ اضلاع میں کلینک آن ویلز فوری روانہ کرنے اور ننکانہ، شیخوپورہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ خالی کرانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔
چپ تعزیہ جلوس: ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کا سخت سیکیورٹی پلان، ایس ایس پی ذیشان شفیق صدیقی کی زیر صدارت اجلاس
اجلاس میں جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں شگاف ڈالنے اور چنڈ بھروانہ کے مقام پر بند کو دھماکے سے اڑانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اجلاس کو بتایا کہ دریائے چناب میں پانی کا بڑا ریلا جھنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
لاہور میں پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے چار بلاکس میں پانی داخل ہوگیا تاہم رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔ لاچیوالی اسکول میں قائم ریلیف کیمپ میں 70 سے زائد افراد مقیم ہیں۔ ادھر طلعت پارک بابوصابو سمیت مختلف علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب اور ستلج میں بھی مختلف مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ مسلسل پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ صوبے میں اب تک 20 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر اموات ڈوبنے سے ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں گوجرانوالہ ڈویژن میں رپورٹ ہوئیں تاہم ریسکیو اداروں کی کسی غفلت کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پنجاب حکومت نے متاثرہ خاندانوں کیلئے 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو بچانے کے لیے ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے بھرپور کوششیں کی گئیں۔ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر ایک لاکھ سے زائد کیوسک پانی ہے جو 18 گھنٹوں میں مزید دباؤ کے ساتھ ڈاؤن اسٹریم تک پہنچے گا۔
پی ٹی وی نیوز کے مطابق دریائے چناب کے سیلاب سے سیالکوٹ کے 395، جھنگ کے 127، ملتان کے 124، چنیوٹ کے 48 اور دیگر اضلاع کے سینکڑوں دیہات زیر آب آگئے۔ دریائے ستلج میں بھی 361 موضع جات متاثر ہوئے ہیں جن میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، ملتان، وہاڑی اور بہاولنگر شامل ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا کہ سیالکوٹ میں سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے 16 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد بھی شامل ہیں۔
ہیڈ مرالہ بیراج کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر سے آنے والے تینوں دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں تاہم نالہ ڈیک میں سیلاب کے باعث متعدد دیہات زیر آب ہیں۔
