کراچی: فلور ملز مالکان کی جانب سے آٹے اور میدے کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد شہر میں آٹے کے ممکنہ بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فائن آٹا، ڈھائی نمبر آٹا اور میدے کی فی کلو قیمت میں 20 سے 30 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہولسیل مارکیٹ میں فائن آٹے کی قیمت فی کلو 95 روپے اور ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 89 روپے تک پہنچ گئی ہے، حالانکہ کمشنر کراچی نے ان کے نرخ بالترتیب 78 اور 66 روپے فی کلو مقرر کیے تھے۔
ریٹیل سطح پر صورتحال مزید خراب ہے جہاں فائن آٹا 110 روپے اور ڈھائی نمبر آٹا 95 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح چکی آٹے کی قیمت بھی 30 روپے اضافے کے بعد 120 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
فلور ملز اور آٹا چکی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گندم مہنگی خرید کر سستا آٹا فروخت کرنا ناممکن ہے کیونکہ گندم کی پسائی اور دیگر اخراجات پر فی کلو کم از کم 30 روپے لاگت آتی ہے۔
ہولسیل تاجروں کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ گندم کی بڑھتی قیمتیں ہیں، جبکہ دوسری جانب ذخیرہ اندوزی کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بڑے پیمانے پر گندم کاشتکاروں سے خرید کر گوداموں میں ذخیرہ کی گئی ہے جس کے باعث مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر دی گئی ہے۔
تاجر برادری نے خبردار کیا ہے کہ اگر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف انتظامیہ نے فوری کارروائی نہ کی تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو عوام کے لیے مہنگائی کی نئی لہر ثابت ہوگا۔
