ایم اے جناح روڈ پٹاخہ گودام دھماکہ؛ لائسنس کے باوجود ٹنوں بارود ذخیرہ، محکمہ ایکسپلوسو کا سخت نوٹس

(اسٹاف رپورٹر) کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں ہونے والے دھماکے نے بڑے پیمانے پر خطرناک ذخیرہ اندوزی کا انکشاف کر دیا۔ محکمہ ایکسپلوسو، منسٹری آف انرجی نے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

سندھ پولیس کا تھانوں اور شعبہ تفتیش کو پیپرلیس بنانے کا فیصلہ، پی ایس آر ایم ایس سسٹم مکمل فعال

مراسلے کے مطابق جس گودام میں دھماکہ ہوا، اسے لائسنس ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کی جانب سے 26 دسمبر 2023 کو جاری کیا گیا تھا، جس میں صرف 50 کلو فائر ورکس اور 15 کلو گن پاؤڈر رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم دھماکے کی شدت سے واضح ہے کہ گودام میں ٹنوں کے حساب سے پٹاخے اور بارود موجود تھا۔

مراسلے میں انکشاف کیا گیا کہ گودام میں غیر قانونی طور پر پٹاخوں کی تیاری بھی کی جا رہی تھی، جو کہ سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ محکمہ ایکسپلوسو نے اس حوالے سے لائسنس فوری طور پر منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے۔

مزید برآں، تین افراد حاجی اسامہ، حنیف پٹاخہ اور محمد ایوب کو غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور پٹاخوں کی تیاری میں ملوث قرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایکسپلوسو ایکٹ 1988 کے تحت فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

محکمہ ایکسپلوسو نے زور دیا کہ مستقبل میں ایسے خطرناک واقعات کی روک تھام کے لیے لائسنس جاری کرتے وقت ایکسپلوسو رولز 2010 کے تمام تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور ذمہ دار افسران کو فزیکل ویری فیکیشن کے لیے تعینات کیا جائے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “ایم اے جناح روڈ پٹاخہ گودام دھماکہ؛ لائسنس کے باوجود ٹنوں بارود ذخیرہ، محکمہ ایکسپلوسو کا سخت نوٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!