کراچی: سندھ حکومت نے صوبے کے مختلف ٹاؤنز کو روڈ کٹنگ کی مد میں ملنے والی بھاری رقوم اور ان کے اخراجات کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ وزیرِ اعلیٰ سندھ کو پیش کر دی گئی ہے۔
ارضِ وطن فاؤنڈیشن کا کامران زہری پر مقدمے کے اندراج کی شدید مذمت، ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق روڈ کٹنگ کی مد میں مختلف اداروں کی جانب سے دی جانے والی رقوم سے ٹاؤنز پر سڑکوں کی تعمیر کی جانی چاہیے تھی، تاہم یہ رقم کہاں اور کیسے استعمال ہوئی، اس کا مکمل آڈٹ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران کراچی کے 20 ٹاؤنز کو سوئی گیس کی جانب سے روڈ کٹنگ کے عوض 13 ارب 43 کروڑ روپے دیے گئے۔ سب سے زیادہ رقم ٹی ایم سی نیو کراچی کو ملی جس کا حجم ساڑھے 3 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق:
-
ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کو 2 ارب 35 کروڑ روپے ملے۔
-
لیاری ٹاؤن کو 1 ارب 2 کروڑ روپے دیے گئے۔
-
جناح ٹاؤن کو 73 کروڑ روپے۔
-
ملیر ٹاؤن کو 62 کروڑ روپے۔
-
چنیسر ٹاؤن اور صدر ٹاؤن کو 26، 26 کروڑ روپے۔
-
لانڈھی ٹاؤن کو 21 کروڑ روپے۔
-
شاہ فیصل ٹاؤن کو 20 کروڑ روپے۔
-
اورنگی ٹاؤن کو 9 کروڑ 86 لاکھ روپے۔
-
بلدیہ ٹاؤن کو 5 کروڑ 10 لاکھ روپے۔
-
کورنگی ٹاؤن کو 2 کروڑ 80 لاکھ روپے۔
-
مومن آباد ٹاؤن کو 1 کروڑ 49 لاکھ روپے۔
-
ابراہیم حیدری ٹاؤن کو 70 لاکھ روپے۔
-
ماڑی پور کیماڑی کو 20 لاکھ روپے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے مؤقف اپنایا ہے کہ کراچی کے 9 ٹاؤنز کو او زیڈ ٹی رقم کا حساب دیا گیا لیکن گزشتہ دو برس میں جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام ٹاؤنز کو ایک روپے کا بھی ترقیاتی فنڈ نہیں دیا گیا۔
سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ روڈ کٹنگ کی مد میں ملنے والی رقوم کے مکمل ریکارڈ اور اخراجات کا شفاف آڈٹ کرایا جائے گا تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
