ڈھاکہ: پاکستان اور بنگلادیش کے تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، دونوں ممالک کے درمیان 6 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے، جبکہ حکومتِ پاکستان نے ’’پاک۔بنگلا دیش علمی راہداری‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ دستخطوں کی تقریب ڈھاکہ میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور بنگلادیش کے مشیر برائے خارجہ امور محمد توحید حسین شریک ہوئے۔
پاکستان میں نئے صوبوں پر بحث تیز، تھنک ٹینک نے تین منظر نامے پیش کر دیے
علمی راہداری اور اسکالرشپس
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اگلے پانچ برسوں میں 500 بنگلا دیشی طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع دینے کے لیے اسکالرشپس دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے ایک چوتھائی اسکالرشپس طب کے شعبے کے لیے مختص ہوں گی۔ اس کے علاوہ 100 بنگلا دیشی سول سرونٹس کو مختلف تربیتی پروگرامز کے ذریعے استعداد کار بڑھانے کا موقع دیا جائے گا۔
پاکستان نے ’’پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام‘‘ کے تحت بنگلا دیشی طلباء کے لیے اسکالرشپس کی تعداد 5 سے بڑھا کر 25 کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
ویزا سہولت اور ادارہ جاتی تعاون
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے سفارتکاروں اور حکومتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ:
انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد اور بنگلا دیش انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہوئے۔
پاکستان اور بنگلا دیش کی خبر رساں ایجنسیوں، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) اور بنگلا دیش سنگباد سنگستھا (BSS) نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔
دونوں ممالک کی فارن سروس اکیڈمیز کے درمیان تعاون پر بھی معاہدہ ہوا۔
تجارتی تعلقات کے لیے ’’ٹریڈ جوائنٹ ورکنگ گروپ‘‘ کے قیام پر ایم او یو طے پایا۔
دوطرفہ ملاقاتیں
اس موقع پر اسحاق ڈار نے بنگلا دیشی قیادت سے وفود کی سطح پر ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، اقتصادی و تجارتی تعاون، ثقافتی تبادلے، تعلیمی و عوامی روابط کو مضبوط بنانے اور خطے کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں سارک کی بحالی، مسئلہ فلسطین اور روہنگیا بحران کے حل پر زور دیا گیا۔
تاریخی دورہ
یہ کسی بھی پاکستانی وزیر خارجہ کا 13 سال بعد پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل نومبر 2012 میں حنا ربانی کھر نے بنگلا دیش کا مختصر دورہ کیا تھا۔
متعلقہ ٹیگز
