کورونا معاشی پیکج میں بڑے گھپلوں کا انکشاف، آڈیٹر جنرل کی خصوصی رپورٹ جاری

کورونا وائرس کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے دیے گئے معاشی پیکج میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اس حوالے سے خصوصی رپورٹ جاری کردی ہے۔

دریائے چناب اور ستلج میں سیلاب کا خدشہ، پنجاب کے کئی اضلاع کیلئے الرٹ جاری

رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2021 کے دوران کورونا معاشی پیکج کے تحت درمیانے اور چھوٹے درجے کے صنعتکاروں کو 106 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی، تاہم ڈسکوز نے پاور ڈویژن اور پاور انفارمیشن کمپنی کی ہدایات کو نظر انداز کیا۔

دستاویز کے مطابق 10 لاکھ سے زائد ایسے صارفین کو سبسڈی دی گئی جو پیکج کے اہل ہی نہیں تھے، ان میں کنڈا استعمال کرنے والے 588 غیر قانونی صارفین بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ 44 ہزار ڈیفالٹرز کو بھی معاشی پیکج میں شامل کیا گیا جنہیں ایک ارب 39 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 97 ہزار صارفین کو ایک ارب روپے کی سبسڈی بغیر تصدیق فراہم کی گئی، جبکہ کئی صنعتکاروں کے نام پر بجلی کے متعدد کنیکشنز موجود تھے۔

مزید انکشاف ہوا کہ 7 ارب 77 کروڑ روپے کی سبسڈی ایسے صارفین کو دی گئی جو مقررہ مدت کے بعد پیکج میں شامل ہوئے۔ 57 ہزار صارفین بعد میں کنکشن حاصل کرنے کے باوجود سبسڈی کے حق دار قرار پائے جبکہ 11 ہزار سے زائد صارفین کے مستقل ایڈریس کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔

رپورٹ کے مطابق کورونا معاشی پیکج میں مجموعی طور پر 2 ارب 43 کروڑ روپے کی اضافی سبسڈی بھی غیر قانونی طور پر دی گئی۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “کورونا معاشی پیکج میں بڑے گھپلوں کا انکشاف، آڈیٹر جنرل کی خصوصی رپورٹ جاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!