وفاقی کابینہ نے موٹر وہیکل ٹیکسیشن ایکٹ 1958 میں ترامیم کی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ نے ویسٹ پاکستان موٹر وہیکل ٹیکسیشن ایکٹ 1958 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پرائیویٹ، پبلک سروس اور کمرشل گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافے کا اختیار وزارتِ داخلہ کو دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نئی پیش رفت اسحٰق ڈار تاریخی دورے پر ڈھاکا روانہ

وزارتِ داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی سمری میں کہا گیا کہ موجودہ ٹوکن ٹیکس اور دیگر ریٹس 2019 سے تبدیل نہیں ہوئے، اس لیے انہیں صوبائی حکومتوں کے مساوی کرنے کی ضرورت ہے۔

سمری میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹوکن ٹیکس اور فیسیں نہ بڑھانے کی وجہ سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن (ای ٹی او) دفاتر کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹوکن ٹیکس اور دیگر فیسوں میں اضافے کا تعین وزارتِ داخلہ کرے گی تاکہ ریونیو بڑھایا جا سکے اور نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔

67 / 100 SEO Score

One thought on “وفاقی کابینہ نے موٹر وہیکل ٹیکسیشن ایکٹ 1958 میں ترامیم کی منظوری دے دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!